مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کہ جلسہ سے فراغت کے بعد قیام نہیں فرماتے بلکہ کتنی ہی رات ہوجائے کسی طرح جلد از جلد مدرسہ واپسی کی کوشش فرماتے ہیں تاکہ سبق کاناغہ نہ ہو، چونکہ سواری کا نظم تھا، اس لئے حضرت جیپ گاڑی سے رات ہی کو چل دیئے، راستہ میں دیکھا کہ گاڑیوں کی لمبی قطار ہے، راستہ جام ہے، کوئی گاڑی نہ آرہی ہے نہ جارہی ہے، آگے جانے کا راستہ نہیں لیکن اس کا سبب نہ معلوم ہوسکا، ڈرائیور بہت ہوشیار تھا سڑک کے کنارے تھوڑی جگہ پاکر گاڑی آگے نکال لایا، آگے دیکھا تو بدمعاشوں ڈاکوں کا ایک قافلہ سینہ پر سوار ہے ڈرائیور نے جلدی گاڑی نکالنے کی کوشش کی ڈاکوئوں نے زور سے آواز دی گاڑی روکنا چاہا لیکن ڈرایئورصاحب نے ہمت کرکے گاڑی آگ بڑھادی اتنے میں ایک ڈاکو نے گولی چلادی اور گولی آکر گاڑی کے اگلے شیشے پر آکر لگی شیشہ ٹوٹ کر چور چور ہوگیا اور اس کی کرچیں ڈرائیور کے جسم اور چہرہ میں گھس گئیں جس سے چہرہ زخمی ہوگیا، حضرت بھی اس میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن حضرت کے چوٹ نہیں آئی، گولی لگتے ہی ڈرائیور نے گاڑی روک دی اور بدمعاش غنڈے گاڑی پر ٹوٹ پڑے دیگر رفقاء سفر کے پاس جو کچھ روپیہ پیسہ تھا سب وصول کررہے تھے، حضرت فرمارہے تھے کیا بات ہے بتائو تو تم کیا چاہتے ہو، اتنے میں کسی نے کہہ دیا کہ جانتے ہو یہ کون ہیں ہتورا والے بابا ہیں ، اور ان ڈاکوئوں میں سے بعض نے حضرت کو پہچان بھی لیاڈاکوئوں کا سردار آگے آیا پیروں میں گر پڑا، معافی مانگی اور تمام بدمعاشوں کو بلایا سب نے معافی مانگی اور جتنا روپیہ لیا تھا سب واپس کردیا، حضرت نے فرمایا تم لوگوں کو اس طرح کرنا چاہئے؟ الغرض وہاں سے روانہ ہوئے، ڈرائیور صاحب کو کانپور ہسپتال میں داخل کیا گیا، چند روز بعد ہتورا تشریف لائے تھے احقر نے دیکھا اس وقت بھی ان کا چہرہ زخمی تھا، اس قصہ کی بڑی شہرت ہوئی ، ہتورا فون پرفون تارپر تار آنے لگے ، یہ زمانہ ملائم سنگھ کی وزرات کا تھا، ملائم سنگھ نے فون کیا، اور عیادت کے لئے آنے کی اجازت چاہی حضرت نے جواب دیا کہ میں اچھی طرح خیریت سے ہوں آنے کی ضرورت نہیں آپ زحمت نہ