مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
وہ (۲۰) فیصد سے زائد نہ ملیں گے، ان میں وہ لوگ نہیں داخل ہیں جو کبھی کبھی جمعہ کو مسجد میں آجاتے ہیں ، اور ان میں فی ہزار ایک دو ایسے ہیں جو عالم باعمل ہیں ، غرضیکہ مسلمانوں کے دو طبقے ہیں ۔ مجھے اس کا احساس ہے کہ وہ لوگ اپنی حالت پر مطمئن نہیں ، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ، ہم یہ یقین رکھتے ہیں جیسا ہم کو ہونا چاہئے ویسے نہیں ، ہم کو اپنے آپ کو بدلنا چاہئے ، پھر اس تبدیلی کے لئے ذہن میں بعضوں کو یہ خیال آتا ہے کہ ہم کو دنیا کے اعتبار سے بدلنا چاہئے اور بعضوں کو جن کودین کا کچھ احساس ہے،ان کو یہ خیال آتا ہے کہ ہم کو دین کے اعتبار سے بدلنا چاہئے، یہ تذکرہ ہر طبقہ میں ہے، تو جب ہم کو اپنی زندگی بدلنی ہے تومجھے ان ۲۰ فیصدی سے دریافت کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کیسے بدلیں ، اس کے متعلق میں ایک زمانہ تک تجربہ اور ترمیم کرنے کے بعد ایک بات عرض کرتاہوں کہ ہم کو چاہئے کہ ہمارا وقت ایسے ماحول میں گذرے جس طرح کی ہم زندگی بدلنا چاہتے ہیں ، یہ کوئی ہمار اپنا نکالا ہوا طریقہ نہیں بلکہ یہ ایک قدیمی اور انبیاء علیہم السلام کی چیز ہے، ہم اس کو عمومی دعوت بنانا چاہتے ہیں ، یہ ماحول کہاں ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایسا ماحول ہر جگہ ہونا چاہئے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم ابھی اتنا ہو کہ ہفتہ کی سات راتوں میں ایک رات ہم گھر پر نہیں گذاریں گے،بلکہ ایک مسجد میں خاص پابندیوں اور خاص اصول کے ماتحت گذـاریں گے جہاں دین کا تذکرہ ہو، خواہ تقریر سے یا کتاب سے، اللہ سے دعاء ، معاملات، اخلاق کا تذکرہ، سونے کے وقت سونا وہ بھی دینی پابندی کے ماتحت، اس طرح پر عمل کرنے میں اس فکر میں اور تیزی پید اہوگی اور مناسبت پیدا ہوجائے گی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ کچھ دن اس کے لئے مقرر کئے جائیں اور اس میں اس تبدیلی کا پیغام پہنچانے کے لئے باہر نکلنا چاہئے، اور اس کے بعد قریب کی کوئی بستی تجویز کرلی جائے، اس میں یہ فائدہ ہوگا کہ اس تبدیلی کے بدلنے کا جو بیج پڑ چکا ان خاص دنوں میں اس میں اور ترقی ہوگی، اس کے متعلق ٹیچروں سے یہ نہ کہیں گے کہ وہ