ہیں۔ خدا کی طرف سے براہ راست ملنے والا علم اس اصطلاح کی (قرآن کی رو سے) خصوصیات حسب ذیل ہیں۔
۱… یہ وحی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف آتی تھی۔ دوسرے انسانوں کی طرف نہیں آتی تھی۔ حضرات انبیاء کرام اسے دوسرے انسانوں تک پہنچاتے تھے۔ چنانچہ رسول سے کہا جاتا تھا کہ: ’’بلغ ما انزل الیک من ربک (مائدہ:۶۷)‘‘ جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیا جاتا ہے۔ اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔
۲… انسانی علم اس کے مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ، غور وفکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن وحی میں صاحب وحی کے اپنے خیالات اور جذبات کا کوئی دخل نہیں ہوتا تھا۔ یہ علم اسے خدا کی طرف سے براہ راست ملتا تھا۔ ’’وما ینطق عن الہویٰ (نجم:۳)‘‘ جو کچھ یہ رسول کہتا ہے۔ اس میں اس کی اپنی فکر یا جذبات کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ’’ان ھو الا وحی یوحیٰ (نجم:۴)‘‘ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ وحی کی اسی خارجیت کی جہت سے اسے تنزیل کہا جاتا تھا۔ یعنی نبی کے دل سے ابھر کر باہر آئی ہوئی بات نہیں بلکہ اس پر اوپر سے نازل شدہ بات۔
۳… انسانی علم، محنت وکاوش، کسب وہنر، سعی ومشقت سے حاصل کیا جاتا ہے اور جو انسان چاہے اسے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن وحی کا علم اس طرح حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے لئے خدا کسی فرد کو منتخب کر لیتا تھا۔ ’’واﷲ یختص برحمتہ من یشاء (البقرہ:۱۰۵)‘‘ {خدا اپنی مشیت کی رو سے جسے چاہتا اس مقصد کے لئے مختص کر لیتا۔} اس جہت سے اس علم کو اکتسابی نہیں بلکہ وہبی کہا جاتا تھا۔ یعنی خدا کی طرف سے بلا کسب وہنر ملنے والا علم جس فرد کو اس مقصد کے لئے منتخب کیا جاتا تھا۔ اسے اس کا علم واحساس تک نہیں ہوتا تھا کہ اسے یہ علم ملنے والا ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ کے متعلق ہے۔ ’’ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان (الزخرف:۵۲)‘‘ {اس سے پہلے تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ کتاب کسے کہتے ہیں اور ایمان کیا ہوتا ہے۔} ’’وما کنت ترجوا ان یلقی الیک الکتب (القصص:۸۶)‘‘ تیرے دل میں یہ خیال تک بھی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ نہ تو اس کی آرزو کر سکتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل ہوگی۔ ’’الا رحمۃ من ربک (القصص:۶۶)‘‘ یہ تیرے خدا کی رحمت ہے۔ جس کے لئے تجھے منتخب کیاگیا ہے۔ ’’وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیینک (العنکبوت:۴۸)‘‘ تو تو اس سے پہلے لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا۔
۴… چونکہ یہ علم نبی تک محدود مختص تھا۔ اس لئے ہم (یعنی غیر از نبی) اسے سمجھ