بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
پیش لفظ … (ایک خط)
میرے عزیز بھائی!
یہ تو تم جانتے ہو کہ میں کچھ عرصے سے احمدیت پر ایک کتاب لکھ رہا تھا۔ پیچھے گذرے ہوئے زمانے کی طرف دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنا لمبا عرصہ کتاب مکمل کرنے کا ارادہ کرتا رہا۔ لیکن اسے مکمل نہ کر سکا۔ اس کتاب کے دو باب جولائی اور اکتوبر ۱۹۵۴ء میں ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ میں چھپے تھے۔ اس وقت تک گو میں نے تقریباً انہی دو موضوعوں پر کچھ لکھا تھا۔ لیکن بہرحال اپنے ذہن میں فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے اور کیاکیا لکھنا ہے۔ اس وجہ سے میں نے خیال کرلیا کہ چند ماہ میں کتاب مکمل ہو جائے گی۔ اب سوچتا ہوں تو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ میں نے اس کام کو اتنا سہل سمجھ لیا۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ احمدیت کے متعلق کوئی چیز کتاب کی شکل میں پیش کرنے کے لئے مجھے ابھی بہت کچھ معلوم کرنا ہے۔ بے شک اس وقت بھی کئی باتیں مزید تحقیق چاہتی ہیں۔ لیکن اب خدشہ یہ ہے کہ اگر تحقیق کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو تبلیغ کا مرحلہ کبھی نہ آئے گا۔ اس لئے میں نے اپنی سعی ناتمام کا نتیجہ پیش کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔
میراخیال ہے کہ یہاں مجھے یہ بھی بتانا چاہئے کہ کتاب کا دیباچہ غیر روایتی طریق پر تمہارے نام ایک ذاتی خط کی صورت میں کیوں لکھا گیا ہے۔ اس کتاب کے اولین مخاطب احمدیہ جماعت کے نوجوان ہیں۔ (صرف نوجوان ہی کیوں ہیں۔ اس کی وضاحت میں ذرا آگے چل کر کروںگا) اور بالخصوص اپنے چند رشتہ دار اور دوست ہیں۔ جن کی خاطر یہ کتاب لکھی گئی ہے اور ان عزیزوں میں سے میں تمہیں سب سے قریب پاتا ہوں۔ مجھے ’’پیش لفظ‘‘ میں چند باتیں کچھ غیر رسمی انداز میں کہنی ہیں۔ اس کے لئے تم ہی موزوں ہو۔ اس خط کے مخاطب اوّل تم خود ہو اور پھر تمہارے ذریعہ دوسرے تمام احمدی دوست ہیں۔
میراخیال ہے کہ تم سب سے پہلے یہ پوچھو گے کہ احمدیت کے متعلق کوئی نئی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی اور اگر لکھی گئی ہے تو پڑھی کیوں جائے اور یہ سوال تمہارے ذہن میں اس لئے نہیں آئے گا کہ پہلے ہی احمدیت ے حق میں اور اس کے خلاف کثرت سے لٹریچر شائع ہوچکا ہے۔ گویہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں تم نے وہ لٹریچر نہیں پڑھا۔ اگر تم نے پڑھا ہوتا تو میرے لئے اپنی اس کتاب کی ضرورت ثابت کرنا آسان ہو جاتا۔ لیکن تمہارا اعتراض