حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
باب:(۶) جمال اور اجتماعیات اپنے عبادتی حجروں سے نکلو ،قدرت کے پھیلے ہوئے دیدہ زیب نظاروں سے آنکھیں ٹھنڈی کرو اپنے شہروں ،گھروں اور دفتروں بازاروں کو صاف رکھو ،تمہارے شہر اسلامی تمّدن کے نشان ، تمہاری زمین سبزوں سے آباد ،تمہارے رستے درختوں اور پھولدار پودوں سے گلِ گلزار ہوں ۔یہ اوراس قسم کی بے شمار ہدایات ہیں جو نبی محترم ﷺنے اپنی اُمّت کو سکھائیں ۔اور اپنے ماہتاب کردار سے ثابت کیاکہ ایک مسلمان اگر ان کامتّبع بن جائے تو وہ دنیا کو امن وآشتی ، تزیین ودل بستگی کاپیغام دے سکتاہے ؎ یہ رئیس قمری ہے پہ امام شمسی اس کے انفاس پہ تلتا ہے نظمِ شمسی اس قسم کی فرحت انگیز راحت خیز دروسِ سیرت کی بات اس باب میں کی گئی ہے۔ (۶۴)شہری آبادی اُونچے مکانات ، باغات اور سبزہ زار: ہم پر اللہ کا کتنا کرم ہے جیسے وہ خود اپنی مخلوق سے پیار کرتے ہیں ، اسی طرح اس کے وہ نبی محترم ﷺبھی انسا نوں سے محبت کرتے ہیں ،جن کو اس نے اپنی مخلوق کی ہدایت اور دارین کی رہنمائی کے لیے مکّہ میں بھیجا اور پھر مدینہ کے لیے انہوں نے ہجرت فرمائی ۔سر زمینِ مدینہ کے لیے کیا خوب دعا فرمائی ،جس کے صدقے سے وہاں کے باسی آج ۱۴۰۰سو سال بعدبھی خوش عیشی کے مزے لیتے ہیں ،انہوں نے ربِ کریم سے گذارش کی :اے اللہ !ہماری اس زمین پر اس کی زینت اتار (یعنی پانی بر سا تا کہ پھل ،میوہ جات اور غلّہ اُگے اورسبزی اس زمین میں پیدا ہو ، اسی طرح )یہاں رہنے والوں کی زینت بھی نازل فرما (تاکہ وہ خوش و خرم رہیں ، آباد رہیں اور اس شہر میں ان کادل لگارہے )(1)جب آپ ﷺمدینہ آئے تو یہاں بلند وبالا عالی شان، خوبصورت اور مضبو ط مکانات تھے ،نبی ء رحمت ﷺفرماتے تھے:یہ محلّات شہر نبوی ﷺکی زینت ہیں ان کو نہ گرائو! مدینہ کے ان محلات کے نام بھی تھے جن میں سے صرف چند نام اختصار کے لیے لکھے جاتے ہیں (2)مراصد الاطلاع علیٰ اسماء الامکنت والبقاع جلد(ا)کے صفحہ(۳۱؎)پرأَجَشّ (۱۷۸؎)پربَرَجْ،(۳۲۰؎) پرجُذْمَان(۳۷۶؎)پرحِبْرَۃ،نامی مکانوں کا ذکر ہے اور اسی