حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
باب:(۱۲) نِسَائیات و زَیورات انسان مرد ہویا عورت ،کم عمر ہو یا جواں عمر، وہ شا ہکار ِ الٰہی ہے تا ہم حُسن و عشق کے جتنے قصّے عورت سے منسوب ہوئے وہ بجا ہیں اللہ نے اسے دِ ل رُبائی سے نوازا ہے اور شمعِ محفل بننے کی وہ صلاحتیں دی ہیں کہ ماں کے روپ میں گھر بھر کے اراکین کی نظر یں اسی کی حُسنِ تدبیر کی منتظر ہوتی ہیں ۔ اللہ کے حبیب ﷺنے نظافت و آرائش کی جتنی ترغیب اور کہیں اجازت ایک عورت کو دی ہے اس قدر مردوں کو نہیں ۔ زیور سے آراستگی کا طبعی حق بایں الفاظ قرآنِ کریم تسلیم کرواتاہے: ’’أَوَمَن یُنَشَّأُ فِیْ الْحِلْیَۃِ‘‘(1)(وہ جو زیور میں پرورش پائے)تاہم اس کا جو حُسنِ حقیقی ہے اسلام اسے نظر انداز نہیں کرتا جس کے بارے میں شاعرِ مشرق بو لے ؎ وُجو دِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں اس باب میں عورت کے مر کزِ محبّت سے لے کر اس کے اطوار و خصائل اور زرو زیورات اورجواہرات کا بیان ہے ۔(۱۳۱)عورت ، محبتوں ، چاہتوں اور احترام و تنظیم کا مر کز : حضرت آدم علیہ السّلام کی دل لگی کے لیے جنّت میں جس ذات کو اللہ نے بنایا وہ عورت ہے پھر اس دنیا میں بھی اماں جی ہوا علیہاالسّلام کو بھی ان کے ساتھ بھیجا ، اس کے بعد عورت مرد کے لیے اور مرد عورت کے لیے لازم و ملزوم ہوگئے ، ان کے باہمی رشتوں میں سے ہر ایک رشتہ اپنی منفرد افادیت رکھتاہے ان میں سے ایک نکاح ہے جسے ہر مکتب و مشرب اور ہر مذہب و ملّت سے متعلّق باشُعور انسان اور معاشرتی ماہرین کی تعلیمات میں مردو عورت کے اس بااعتماد ،مستحکم اور دیر پا بلکہ اکثرو بیشتر تاحیات تعلّق کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے ۔جبکہ بغیر نکاح کسی عورت یا مرد سے میل جول کو کہیں بھی عزّت و وقار کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔’’وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (2) (اللہ نے انھیں اُمّت’’وَسَطَ‘‘یعنی درمیانی اُمّت بنایا ہے )۔گویا درمیانی اُمّت ہونا،کامرانی ٔحیات کاایک راز ہے جس کی روشنی میں حضور ﷺکا ہر ماننے والاشخص کامیابی کے رستے پہ چلتا رہے گا۔ ؎ صباکا راز بھی پھولوں کے درمیاں کھلا اس ایک در کے توسط سے گلستاں کھلا حضور سیدّالکائنات ﷺنے واضح الفاظ میں عورت سے مَحبّت کا اظہار کر کے دنیائے رہبانیت میں زلزلہ پیدا کر دیا وہ صنف نازک جو یہودیت و نصرانیت کے ہاتھوں ذلت و رسوائی کے آخری کنارے پہ تھی اوربعض مشرکین تو اس کا وجود ہی اپنی عار سمجھنے لگے تھے ، ان حالات میں آپ ﷺنے ایک ایسی خاتون کو اپنی محبتوں اور چاہتوں کا محور بنایا جو دو جگہ سے بیوہ ہو چکی تھیں ،ایک شادی کے علاوہ تمام ازدواجی رشتے بیوائوں یا مطلّقات سے کر کے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ عورت اور مرد کا یہ تعلّق صرف خواہشاتِ نفس کی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت سے پیارو محبّت ،باہمی نُصْرت و مدد اور اعتماد کا بہترین رشتہ ہے ۔حد تو یہ ہے کہ حضرت مُحمَّد ﷺنے جہاں نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذکر کیا ہے وہیں خُوشبواور عورت کا تذکرہ فرمایا (3)حضور ﷺنے عورت کے لیے محبّت و احترام اور تحفّظ و خدمت کے جو اُصول مُرتّب کر کے ان کوقانونِ حُکومتِ اسلامیہ کا حصّہ بنایااور عمل کر کے دکھایا ہے ، ان کی گہرائی اور گیرائی پر عمل کیا جائے تولگتا ہے کہ آپ ﷺنے عورت کو بے شمار حُقوق اور لاتعداد اختیارات دیے ہیں ،لیکن اس کی تخلیقی صفات ایسی ہیں کہ اسے قانون کا رستہ نہیں لینا پڑتا ،وہ ماں ہوتی ہے تو بیٹے یا بیٹی پر ابرِ محبّت بن کے برستی ہے پھر اولاد ہوجاتی ہے تو وہ ان سے اپنی مَحبّت وُصول بھی کرتی ہے اور انہیں اپنی توّجہ اور وفائوں سے نوازتی بھی ہے ،وہ بہن ہوتی ہے تو بھائیوں سے حقِ احترام وُصول کرتی ہے ،کبھی ماں ،خالہ ،پھوپھی دادی اور نانی کی صورت آتی ہے توکبھی بیٹی ،بھانجی ،بھتیجی اور نواسی و پوتی کی شکل میں آتی ہے ۔ ؎ وہی اساسِ محبت ہے عقیدت بھی وہ اعتمادکا پہلو جو اعتقادمیں ہے۔(۱۳۲)نکاح :اُلفت و مَحبّت وفا اور پیار کی علامت : نکاح ایسا مقدّس ،پاکیزہ اور مجموعہ ٔ حسنات تعلّق ہے جسے عمر بھر نباہنے کے لیے کیاجاتا ہے، اسے ختم کرنا اگرچہ حلال قرار دیاہے، تاہم اللہ اور نبی رحمت ﷺکے ہاں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے (4)یعنی آپ ﷺکوان میاں بیوی