حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
باب:(۳) تطہیرو عبادات خدارحمت کرے اس عظیم ہستی پر جس نے پاکی و ناپاکی کی تمیز سکھائی ،جسمانی آرائش سے آگے اور بہت بلندی پرروحِ انسان کی خوش منظری اور تسکین کا سامان مہیا فرمایا،انہوں نے نماز ،حج،عیدین اور جمعہ میں سے ہر عبادت کو وضواورغسل کی طہارت آفرینی سے مزیّن کیا ، وہ زندہ دلی کا درس دیتے اور جنازہ ،کفن اور دفن تک میں موزونیت اور تحسین کا خیال رکھتے تھے ،انہوں تطہیر وتجمیل کے وہ طریقے تعلیم کیے کہ انسان اگر ان کی مان جائے اور دنیا کے ایجاد کردہ طریقوں کو چھوڑدے تو فرشتے اس کے لیے دعا کیا کریں ۔ ؎ اس کی محراب میں غلطیدہ فرشتوں کا ورود اس کی سر کا رمیں جبریلِ امین سربسجود اس باب کو ایسی ہی مشکبار تعلیماتِ رسول ﷺسے ہم نے مُزیّن کیا ہے(۳۰)افزائشِ حُسْنِ اخلاق کاطریقہ(خوبصورت عِبَادت )کا تصوّراتی گر: ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام نے انسانی صورت میں آکر صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں آپ ﷺسے چند سوالات کیے ،ان میں سے ایک یہ تھا : اے اللہ کے رسول !یہ ارشاد فرمائیے کہ اللہ کی بندگی میں الْاِحْسَان(یعنی روحانی افزائشِ حسن ) کیسے ہو؟آپ ﷺنے فرمایا :اللہ کی اطاعت و بندگی ایسے کروکہ تم اسے دیکھ رہے ہو (کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ) اگر یہ نہ ہو سکے تو(یوں سمجھوکہ )وہ تمہیں دیکھ رہا ہے (1)حسنِ عبادت کی یہ مثال ہمیں آسانی سے سمجھ آجانی چاہیے کہ مزدورکے کام میں اس وقت بڑی عمدگی آجاتی ہے جب ایک ماہرِفن اور باریک بیں (مزدوری دینے والاشخص) اسے دیکھ رہا ہو،اسی طرح نماز ،روزہ اور دیگر اطاعتوں میں ایک بندہ چشمِ ِتصوّرسے دیکھے کہ میرا مالک و خالق مجھے یہ کام کرتاہوادیکھ رہا ہے ،تو اس کی عبادت میں یکسوئی ، خشوع وخضوع اور رعنائی درآتی ہے ۔حدیث مذکورہ میں اللہ کے حبیب ﷺنے بہت خوب مثال سے حُسْنِ عبادت کاپتہ دیاہے ۔جس سے انسان اپنے رب سے جاملتاہے ،اوراس کی زندگی کے گلستان میں بہار آجاتی ہے جس کے طفیل اسے دیکھنے والوں کو خدا یادآجاتاہے ؎ غالب ندیم ِدوست سے آتی ہے بوئے دوست مشغولِ حق ہوں بندگیٔ بُو تُراب میں(۳۱)پاکی ،پانی اور حضور ﷺکی پسند: کپڑے ،مفروشات اور وہ جگہیں جہاں تک انسان کی رسائی ہے انہیں پانی کے بغیر بھی صاف کیا بلکہ چمکا یا جاسکتاہے لیکن ہمارے حضورﷺضروری سمجھتے تھے کہ پانی کے ذریعے ان کی پاکی کو بھی یقینی بنایاجائے ۔اللہ کے نبی ﷺکو سچا ماننے والے اپنے جسم کی پاکی اور ستھرائی کے لیے جتنا پانی استعمال کرتے ہیں اتنا دوسرے مذاہب والے نہیں کرتے ،غسل اور استنجاء میں ،کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کے لیے اور کئی باروضومیں پانی استعمال کر کے اپنے تمام اعضاء کو مل مل کر دھونا ایک ایسا طبی اصول ہے جس کے فوائد بے شمار ہیں ،مسلمان پانچ وقت نماز سے پہلے ہاتھ پائوں اور منہ کی رگوں کا مساج پانی کے ذریعے کرتاہے ،جس سے پورے جسم کے مرکزی مسامات کھل جاتے ہیں اور انسان تازہ دم ہوجاتاہے ،قدیم طریقِ علاج (آکوپنکچر )نے اسی طریقِ نبوی ﷺکو اپنے علاج کا جزو بنایا ہے ، الغرض :نبی ﷺنے اپنے ماننے والوں کو پانی سے جتنا متعارف کروایا ہے کسی اور نے نہیں ،ہاتھوں کی صفائی پر اتنا زور اس لیے دیا ہے کہ ہا تھ اکثر کام کاج اور کھانے پینے میں استعمال ہوتے ہیں وہ آنکھوں پر بھی لگتے