حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
میں اکڑ کر نہ چلو )محبوبانِ خداوہ ہیں جو’’الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً‘‘ (19)(جو زمین میں دہیمی چال چلتے ہیں )نگاہ کا نیچا ہونا عورت کے لیے لازمۂ حسن ہے ،قرآن کریم حورانِ جنت کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتاہے :’’فِیْہِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ إِنسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَانٌّ ‘‘ (20)( اس میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں ) اور فرمایا:’’فَجَاء تْہُ إِحْدَاہُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَاء‘‘(21)(حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی)حیاء کی چال چل رہی تھی ،ایک ترجمہ یہ کیا گیا ہے :ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی )بول اور چال کا وہ حسن جس پہ فرشتے بھی قربان جائیں وہ قرآن بیان کرتاہے :’’وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْر‘‘(22)(اپنی چال میں اعتدال کیے رکھنا اور (بولتے وقت )آواز نیچی رکھنا) (اللہ کی پسند یدہ زینت کی یہ چند باتیں بطورِ نمونہ لکھی گئیں )اس طرح ہر عضوِانسانی کے متعلّق آیات و احکام ہیں ، جن سے حقیقی خوبصورتی واضح کی گئی ہے اور انسان کو اس روحانی واخلاقی حسن کی ضرورت بھی زیادہ ہے ،مثلاً:ایک انسان کے ہونٹ بڑی کشش رکھتے ہیں ،کبھی مسکرائے تو مخاطب انسان تمناکرتاہے کہ وہ پھر مسکرائے ،اگر کوئی گلِ رعنا ان ہونٹوں سے کفر بکے ، کسی کی عزّت پر حملہ آور ہو ،اور کسی پہ تہمت کا پہاڑڈھائے ،تو کون عقلمند انسان ہے جو ان ہونٹوں کو خوبصورتی و دیدہ زیبی کی سنددے ؟اس کے برخلاف کہا جائے گا کہ یہ ہونٹ نہیں ،تیرو نشتر ہیں ۔ اسی طرح ایک مرد سر وقد، چندے آفتاب و ماہتاب کی دست درازیوں اور لسانی مغلظات سے انسانیت پر یشان ہو تو کس کو اچھا لگے گا؟اسی لیے تو ہمارے نبی ﷺاچھے اخلاق والے شخص کو شبِ زندہ دار اور صائم النّہار کے برابر شمار کرتے تھے (23)ممکن ہے میر تقی میّر نے اسی حدیث سے متاثر ہوکر کہا ؎ کیا جانوں رکھو روزے یاداروپیو شب کو کر دار وہی اچھا تو جس کو بھلا جانے عنوان نمبر (۱۲۵) میں ہے کہ صورت کے ساتھ سیرت کے حسن کی بڑی اہمیت ہے ۔(۵۷)دلوں کی ستھرائی کے لیے معیارِرسول ﷺ: جسم ،لباس اور دیگر اشیاء ضرور یہ پہ پڑا غبار تو ہر ایک کو نظر آجاتاہے، اور جسم کے اندر ایکسرے اور ای،سی ،جی وغیرہ کے ذریعے اَطِبّاء اندرونی بیماریاں معلوم کر سکتے ہیں ، لیکن قلبِ انسانی پر چھائے غبار اور معاصی کے دھبوں کی خبر اور ان کی صفائی کا انتظام صرف سیّدنا مُحمّدٌ رَّسُول اللہ ﷺکے علوم وہدایات کی روشنی میں ممکن ہے ، انہوں نے فرمایا:کسی گناہ کی وجہ سے دل میلاہوجائے تو کوئی نیکی بھی کرلو تا کہ دل صاف ہو جائے (24) ؎ میری پوشاک ہی تو پہچان نہیں ہے میری دل میں بھی جھانک ایمان شان ہے میری