حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
سے گُونہ مَحبّت میں کمی آجاتی تھی جو اس پائیدار بند ھن کو توڑ بیٹھتے تھے ،آج بھی اگر کوئی ایسا کرے گا تو محبّتِ رسُول ﷺکے خلاف ہوجائے گا ۔جس کی وجہ سے اللہ کا عرش ہل جاتاہے ۔(5)ایک عورت اپنا سب کچھ ایک مرد پر نچھاور کرے یا ایک مرد عورت کو اپنا دل دے جان اور مال قربان کرے اور دوسری طرف سے بے وفائی ملے یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟بقولِ میر تقی میر ؎ تجھ سے کیا کیا توقّعیں تھیں ہمیں سو تیرے ظلم نے نراس کیا آپ ﷺمحبوبِ خدا تھے اور مُحِبِّ خدا بھی ، اس کے باو صف عورت کو دنیا کی محبوب ترین اشیاء میں شمار کیا ، آپ ﷺبیویوں سے بے تکلّف رہتے اُن سے دوستی کا ماحول ہوتا انہیں اپنے نازدکھانے کی اجازت تھی اور حضور ﷺان کی ناز برداری کو مرّوت و رفاقت کا حصّہ سمجھتے تھے، ان سے کھیلنے (حَتّٰی کہ ان کے ساتھ دوڑنے ) کو بھی معیوب نہ سمجھتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا برتن میں جہاں منہ رکھ کر پیتیں ،حضور ﷺوہیں سے منہ لگا کر پانی پیتے ،وہ ہڈی سے گوشت جدا کر نے کے لیے جہاں منہ لگاتیں وہیں سے منہ لگا کر حضور ﷺشُروع فرمادیتے تھے ، ان کی گودکوتکیہ بنالیتے ،اسی حال میں قرآن کریم کی تلاوت (کرکے وہ اپنے اللہ سے ہم کلام بھی ہوجاتے تھے) اسفار میں ہر زوجہ کا شوق ہوتا کہ وہ اپنے شوہر نامدار سید نا محمد عربی علیہ السّلام کے ساتھ ہم رکاب ہوں ،اسی لیے قُرعہ اَندازی میں جس کا نام نکلتا اسی کو اپنی ہمدمی کا شرف بخشتے (تاکہ دوسری خواتین کے دل ملول نہ ہوں ، مَحبّت و مَودّت کا یہ عالم تھا کہ نو بیویوں میں سے ہر ایک دل و جان سے قربان ہوتی تھیں اس لیے ) آپ ﷺنے ان کے درمیان باری مقرر کر دی تھی تاکہ سب کو ان کا حقِ مُحبّت پہنچ سکے ۔ (6)آپ ﷺنے اپنے کردار و عمل اور فرامین سے واضح فرمادیا کہ عشق و محبّت اور حُسن پر ستی کے لیے بیوی ہی ہے دوسری طرف منکوحہ عورتوں کوصفائی ،پاکی ،بنائو سنگھار ،زیور حتّٰی کہ ریشم تک پہننے کی اجازت ہی نہیں ترغیب بھی دی تاکہ ان کے شوہر ان کی (جنسی) محبّت میں کسی کو شر یک نہ کریں ۔سورئہ نور کی آیت نمبر (۳۰) اور آیت نمبر (۳۱) میں غیر محرموں سے نظریں ملانے اور ان کو دیکھنے سے سختی کے ساتھ اسی لیے منع کیا ہے کہ نوجوان مردوعورت اپنے مجوّزہ محور سے آگے بڑھ کر خاندانی و مذہبی اور ذاتی بدنامی کا ذریعہ نہ بنیں ۔ جن معاشروں میں اظہار ِ حُسن اور استفادئہ حُسن کی کوئی قید نہیں ہے،وہ معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ان کے نہ مرد مطمئن ہیں اورنہ عورتیں ۔اس قسم کا معاشرہ فطرت سے جنگ کر تاہے ،ظاہر ہے ہار اس معاشرے کا مقدّ ر ہے بقولِ غالب ؎؎