مجدد کی تلاش کرتے پھریں۔ جب کوئی نیا مجدد آئے گا تو اس کا وجود اور اس کا نام خود اس کی مجددیت ظاہر کردے گا۔ وہ بھی حضرت مرزاصاحب کا مصدق ہوگا نہ مکذب۔ اس لئے اس کے زمانے کو بھی حضر ت مرزاصاحب کا ہی زمانہ سمجھنا چاہئے۔‘‘
یعنی قادیانی جماعت نے مرزاقادیانی کی نبوت کو آخری راہ قرار دے کر اپنی مداومت (ہمیشگی) پر مہر تصدیق ثبت کر لی اور لاہوری جماعت نے مرزاقادیانی کی مجدد کے زمانہ کو لامتناہی قرار دے کر اپنے خلود (ہمیشگی) کا جواز پیدا کر لیا۔ معاذ اﷲ، دین کے ساتھ کیا مذاق ہورہا ہے۔
جہاں تک ایک مجدد کے زمانے کا تعلق ہے۔ پیغام صلح کے اسی افتتاحیہ میں جس کا اوپر اقتباس دیاگیا ہے۔ مرزاقادیانی سے پہلے مجددین (حضرت شیخ سرہندیؒ اور شاہ ولی اﷲ دہلویؒ) کے بعض اقوال دئیے گئے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت یہ حضرات بھول گئے کہ ان اقتباسات کی رو سے نئے مجدد کے آنے سے سابقہ مجدد کی بعثت ختم ہو جاتی ہے۔ حضرت شیخ سرہندیؒ کا قول دیاگیا ہے کہ: ’’مجدد آنست کہ ہر چندرآں مدت از فیوض بامتاں برسد بتوسط اوبرسد، اگرچہ اقطاب واوتاد آں دقت بودند وبدلا ونجباباشند۔‘‘ (مکتوبات ربانی ج۲ مکتوب چہارم ص۱۳،۱۴)
یعنی مجدد وہ ہوتا ہے کہ اس کے عہد مجددیت میں جس قدر فیض لوگوں کو پہنچتا ہے اسی کی وساطت سے پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ وہ اس زمانے کے قطب اور اوتار یا ابدال اور نجیب بھی کیوں نہ ہوں۔
اور اس کے بعد شاہ ولی اﷲؒ کی یہ عبارت درج کی گئی ہے۔ ’’میرے رب نے مجھے مطلع فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے اس طریقہ کا امام مقرر کیا ہے اور اس کی اعلیٰ بلندی تک پہنچایا ہے اور حقیقت قرب کے اور طریقے مسدود کر دئیے ہیں۔ سوائے ایک طریقہ کے وہ تیری محبت اور تیری فرمانبرداری ہے۔ پس جو شخص تجھ سے عداوت کرے۔ نہ آسمانی برکات اس پر نازل ہوںگی نہ ارضی برکات کا موجب ہوگا۔ اہل مشرق اور اہل مغرب تیری رعیت ہیں اور تو ان کا بادشاہ ہے۔ خواہ جانیں یا نہ جانیں۔ اگر وہ جان لیں تو کامیاب ہوںگے اور اگر بے خبر رہیں تو خائب وخاسر ہوںگے۔‘‘ (تفہیمات الٰہیہ عربی ترجمہ)
یعنی (خود ان حضرات کے بقول) جب نیا مجدد آجاتا ہے تو حقیقت قرب کے سابقہ سب راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور اسی ایک کا طریقہ باقی رہ جاتا ہے جو اسے جان لیں وہ کامیاب ہو جائیںگے۔ جو بے خبر رہیں۔ وہ خائب وخاسر رہیںگے۔ لیکن یہ حضرات کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم نئے مجدد کی تلاش کرتے پھریں۔ مجددیت کا فریضہ اب ہماری انجمن سرانجام دے گی۔