برسات کا ایک منظر ملاحظہ ہو۔
مستیٔ سیمین ہر سو لرزاں
پتی پتی کیف بداماں
ہلکی ہلکی بوندیں برسیں
گلشن نغمے رقصاں
سبزہ ابھرا دھانی دھانی
دنیا ہے رنگین کہانیمہکی مہکی آئی ہوائیں
بہکی بہکی چھائی گھٹائیں
دہکا دہکا رنگ گلستان
بھیگی بھیگی مست فضائیں
ذرہ ذرہ محو تبسم
فطرت میں نغموں کا تلاطم
(مصنف کے دور شاعری کی یادگار)
رخت بہ کاشمر کشاکوہ و تل و دمن نگر
سبزہ جہاں جہاں ببیں لالہ چمن چمن نگر (اقبال)
یوں کہہ لیجئے کہ تکرار کی دو صورتیں ہیں۔ ملیح وقبیح۔ اقتباسات ذیل میں تکرار کی کون سی قسم ہے۔ فیصلہ آپ پہ چھوڑتا ہوں۔ ’’بوڑھے ہو کر پیرانہ سالی کے وقت میں۔‘‘
(دیباچہ براہین حصہ دوم ص ب، خزائن ج۱ ص۶۱،۶۲)
بڑھاپا اور پیرانہ سالی مترادف ہیں۔ اردو میں ’’وقت‘‘ کے ساتھ ’’میں‘‘ مقدر ہوتا ہے۔
’’دوپہر کے وقت‘‘، ’’شام کے وقت‘‘ صحیح ہے اور ’’دوپہر کے وقت میں‘‘ غلط ہے۔ ’’ائمہ اربعہ کی شہادت گواہی دے رہی ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۹۵)
شہادت کے معنی بھی گواہی ہیں۔
چنیں زمانہ چنیں ودریں چنیں برکات
تو بے نصیب روی وہ چہ ایں شقا باشد
(تریاق ص۷، خزائن ج۱۵ ص۱۳۵)
چنیں کی گردان ملاحظہ ہو۔ ’’درحقیقت تمام ارواح کلمات اﷲ ہی ہیں۔ جو ایک لایدرک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۴۰، خزائن ج۳ ص۳۳۳)