کتاب مردم شماری کے اوراق الٹنے سے پہلے یہ دیکھ لینا نامناسب نہ ہوگا کہ خود مرزاقادیانی کا اندازہ تعداد جماعت کے متعلق کیا تھا۔
۱… ۱۸۹۷ء میں فرمایا۔ ’’یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فئہ قلیلہ ہے اور شاید اس وقت چار پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہوگی۔‘‘
(انجام آتھم ص۶۴، خزائن ج۱۱ ص۶۴)
۲… یہی سال ۱۸۹۷ء اور یہی کتاب ’’(مولوی عبدالحق کے ساتھ) مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ شاید تین چار سو آدمی ہوںگے اور اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جانفشاں ہیں۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۱۰) ۳… وہی سال اور وہی کتاب۔ ’’(اﷲ نے) ہماری قبولیت زمین پر پھیلائی اور ہماری جماعت کو ہزارہا تک پہنچایا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۳۴۲)
تو کیا ۱۸۹۷ء میں احمدیوں کی تعداد پہلے چار پانچ ہزار۔ پھر آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ اور اس کے بعد صرف ہزارہا تھی۔
۴… ۱۸۹۹ء میں۔ ’’میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوںگے۔‘‘ (تریاق القلوب نمبر۳ ص۳۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۹۳)
۵… ۱۹۰۲ء میں۔ ’’آج کی تاریخ تک برٹش انڈیا میں یہ جماعت ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہے۔‘‘ (کشتی نوح ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۷۹)
۶… ۱۹۰۶ء میں۔ ’’ان دنوں میں دس آدمی بھی میری بیعت میں نہ تھے۔ مگر آج خدا کے فضل سے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۲۰، خزائن ج۲۲ ص۱۲۳)
۷… ۱۹۰۷ء میں۔ ’’اور سب بیعت کرنے والے چار لاکھ کے قریب ہوںگے۔‘‘ (تتمہ چشمہ معرفت ص۳۶، خزائن ج۲۳ ص۴۰۶)
۸… مئی ۱۹۰۸ء میں رحلت سے دوروز پہلے۔ ’’یاد رہے کہ ہماری احمدی جماعت چار لاکھ سے کم نہیں ہے۔‘‘ (پیغام صلح ص۲۶، خزائن ج۲۳ ص۴۵۵)
لیکن کتاب مردم شماری برائے سال ۱۹۱۱ء ص۱۶۹ بتاتی ہے کہ طاعون کے بعد ۱۹۱۱ء میں احمدیوں کی تعداد صرف اٹھارہ ہزار چھ سو پچانوے (۱۸۶۹۵) تھی اور کل پنجاب کی آبادی ایک کروڑ پچانوے لاکھ اناسی ہزار چھیالیس (۱۹۵۷۹۰۴۶) یعنی طاعون کے بعد بھی صرف پنجاب میں مسیح موعود کے منکر ایک کروڑ پچانوے لاکھ ساٹھ ہزار باقی تھے اور طاعون ختم ہوگیا۔