واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
میں علاقہ میں کس طرح کام کرتے تھے لوگ کیسے مانوس ہوئے کیا تعویذ کا سلسلہ اس وقت بھی تھا ؟ حضرت نے فرمایا تعویذ تو اس وقت لکھتا نہ تھا نہ اس کا م کی اتنی شہرت تھی کبھی کسی کولکِھ دیا تو لکھ دیا بس میں تو جاکر لوگوں سے ملاقات کرتا تھا کبھی کچھ لوگوں کو جمع کیا اور دو چار باتیں کہہ دیں ۔ اور واپس آگیا ان سے لیتا کچھ نہ تھا، کھانا بھی نہیں کھاتا تھا کبھی ساگ وغیرہ کھالیا کرتا تھا اور اکثر مسجد میں سویا کرتا تھا کبھی کسی کے کھیت کھلیان میں سو جایا کرتا تھا اور یہ پورا سفر پیدل ہی کرتا تھا۔ ایک قصہ بھی حضرت نے سنایا کہ ایک مرتبہ کئی دیہاتوں کا سفر کرتے کرتے راستہ بھٹک گیا معلوم نہیں کس طرح میں جنگل پہونچ گیا ِچاروں طرف جنگل ہی جنگل تھا اور دو ر دور تک کوئی آبادی نظر نہیں آرہی تھی میں جنگل میں بالکل تنہا تھا، شام ہوئی رات ہوگئی اب میں بہت پریشان ہوا سامنے سے دیکھا کہ دو بھیڑیئے چلے آرہے ہیں میں بہت گھبرایا کہ اللہ ! اب تو خیر نہیں اس وقت اللہ سے دعاء کی اور یہ آیت پڑھی انھم یکیدون کیدا واکید کیدا فمہل الکفرین امہلہم رویدا۔ پھر وہ بھیڑیئے بھاگ گئے بڑی مشکل سے مجھے راستہ ملا اور ایک گاؤں میں جاکر ہندوکے یہاں میں نے رات گذاری۔پرمشقت اسفار کی کہانی (۱)حضرت کے ابتدائی دور کے واقعات میں سے ایک عجیب واقعہ حضرت مولانا نفیس اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر المدرسین جامعہ عربیہ ہتھورا بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ نے مجھ سے خود بیان فرمایا کہ ایک بار ہتھورا سے کھرہنڈ ہوتے ہوئے تنہا پیدل سفر کیا قصبہ نرینی جانا تھا درمیان میں موضع شیخن پور میں رات ہوگئی۔ سردی کا موسم بستر وغیرہ ساتھ نہیں ، ناشتہ بھی نہیں گاؤں کے لوگوں سے کوئی جان پہچان نہیں ، ایسی حالت میں گاؤں کی مسجد میں جاکر نماز پڑھی اور مسجد کی چٹائی اوڑھ کر