واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
احتیاط کا ایک عجیب نمونہ حضرت اقدس ؒ کے داماد مولانا فرید احمد صاحب ندوی جو ندوہ سے فارغ ہیں ، حضرت کے مشورہ سے دورۂ حدیث شریف میں داخلہوئے، دورۂ حدیث کی بعض کتابوں کا امتحان حضرت ہی کے پاس تھا، حضرت اقدس نے اپنے داماد کے پرچے ملاحظہ فرمائے اور فرمایا کہ لکھنے کا انداز اچھا ہے، مستحق تو زیادہ نمبرات کا ہے، لیکن دوسروں کی رعایت میں نمبر کاٹ کر دے رہا ہوں ورنہ لوگ کہیں گے کہ اپنے داماد کو نمبر زیادہ دیئے ہیں ۔ بسااوقات چھوٹی چھوٹی باتیں اختلاف اور فساد کا ذریعہ بن جاتی ہیں انہیں باتوں کو اگر بڑھادیا جائے تو فتنہ فساد ہوجاتا ہے، لیکن میں تو اس مزاج کا ہوں کہ اپنے کو دبالے خاموش ہوجائے ، لیکن فتنہ فساد نہ ہونے دے۔طائف جیسے واقعات حضرت مولانا مفتی عبیداللہ اسعدی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ کانپور کے ایک قصبہ میں جلسہ تھا، حضرت تشریف لے گئے احقر بھی ساتھ تھا وہاں ایک بات تو یہ ہوئی ہے کہ وہاں ایک ذی حیثیت مسلم گھرانہ تھا جو دین سے ربط و تعلق میں معروف تھا، حضرت ملنے گئے،تین بھائی تھے، ایک دیکھ کر چلاگیا، ایک نے مصافحہ نہ کیا، ایک نے بیٹھے بیٹھے مصافحہ کیا اور کچھ بات چیت نہیں چند منٹ بیٹھ کر چل دیئے۔ عشاء بعد جلسہ شروع ہوا، ابتداء ً احقر کا ہی بیان تھا اس کے بعد حضرت کا بیان ہونا تھا، حضرت تخت پر تشریف فرماتھے، ابھی تھوڑْ ہی دیر ہوئی تھی کہ لائٹ گئی اور پھر پتھر چلنے لگے ۔ شرکائے جلسہ بچنے کی تدبیر یں کرنے لگے، چند زخمی بھی ہوئے، ظاہر ہے کہ اس پر اشتعال اور رد عمل سامنے آیا ، حضرت نے سب کو روکا، اور سختی سے روکا، سکون