واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تقریر ہوگی ، اور فجر کی نماز گول کردیتے ہیں تقریر سے پہلے جوزائد روشنی تھی اسکو بند کرایاگیا ، جلسہ سے فارغ ہونے کے بعد تقریبا ساڑھے گیارہ بجے حضرت ہتھورا کے لئے روانہ ہوئے۔ (افادات صدیق)جلسہ کا اشتہار اور انشاء اللہ ایک صاحب نے جلسہ کے لئے تاریخ لی حضرت نے فرمایا کوئی عذ ر نہ ہوا تو ضرور انشاء اللہ آؤں گا، یہ میں ٹالنے کیلئے نہیں کہہ رہا ہوں ، بسا اوقات وقتی طورپر ایسا مانع پیش آجاتا ہے کہ میں مجبور ہوجاتا ہوں جاہی نہیں سکتا بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔ اس لئے میں حتمی وعدہ نہیں کرتا، آپ لوگ تو فوراً جاتے ہی اشتہار چھاپ دیں گے گویا بالکل اب طے ہی ہوگیا اورانشاء اللہ بھی نہیں کہتے۔ اشتہار چھاپتے ہیں اس میں بھی نہیں لکھتے کہ فلاں تاریخ کو جلسہ ہوگا انشاء اللہ چونکہ اپنے پروگرام پر ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی، اسی لئے ناکامی ہوتی ہے ، حکم تو دیاگیا ہے، ولاتقولن لشائٍ انی فاعل ذلک غداً الا ان یشاء اللہ۔ کہ کسی کام کے متعلق یہ نہ کہو کہ میں اسکو کل کروں گا مگر یہ کہ انشاء اللہ ضرور کہہ لو ہر ہونے والے کام کے ساتھ انشاء اللہ ضرورکہنا چاہئے، اب یہ سنت مردہ ہورہی ہے۔ انشاء اللہ کہنے کا رواج ہی ختم ہورہا ہے رسمی طورپر بعض مواقع میں اسکا ذکر کردیا جاتا ہے، عام طورپر نہیں کرتے، گویا اپنے ارادہ اورفیصلہ پر پورا اطمینان ہے کہ ہوہی جائے گا۔ اشتہار وغیرہ چھاپتے ہیں اس میں انشاء اللہ نہیں لکھتے آپ لوگ جائیے اس سنت کو زندہ کریئے ان صاحب نے فرمایا کہ انشاء اللہ جارہا ہوں اور انشاء اللہ اشتہار چھپواؤں گا تو اس میں انشاء اللہ لکھو ادوں گا حضرت نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں کہ ہر موقع بے موقع پر انشا ء اللہ کہا جائے جو اسکا موقع ہو یعنی آئندہ جونیک کام کرنا ہو اسی کے لئے کہا جائے کہ انشاء اللہ ایسا کروں گا۔ (افادات صدیق)