واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
پہونچنے کے بعد حضرت نے تنخواہ دینے کے لئے مجھے دو تین بار یاد فرمایا میں حاضر نہیں ہوا تو ظہر کے بعد مسجد ہی میں خود ملاقات کی اور فرمایا میں نے تو تین بار آپ کو بلایا آپ تشریف نہیں لائے۔ میں نے اپنی بات سنبھل سے لیکر لکھنؤ تک پوری ذکر کردی اور خاص طورپر یہ کہ میں پیسے لیکر آیا ہوں ، حضرت جیب سے رقم نکال کر مجھے دینے لگے اور میرے لینے پر اصرار بھی کرنے لگے اسی اصرار و انکار میں میری زبان سے یہ نکل گیا حضرت جب میں نے پورے مہینہ پڑھایا نہیں تو میرے لئے تنخواہ لینا کیسے جائز ہے، حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا مسئلہ ہم بھی جانتے ہیں لیکن پھر بھی جب میں اپنے انکار پر قائم رہا تو حضرت کو اصل بات کہنی پڑی اور وہی اس پورے واقعہ کے ذکر کرنے کا مقصود اور اس قصہ پارینہ کا حاصل ہے۔ فرمایا مولانا !(حضرت اپنے یہاں کے اساتذہ کو مولانا ہی کہتے ہیں ) جس دن سے آپ گئے ہیں میں نے آپ کے اسباق ِآپ کی طرف سے پڑھائے ہیں آپ کے ایک بھی سبق کا ناغہ نہیں ہوا ہے ۔ آہ بے مثال باتیں بس انہیں کے ساتھ چلی گئیں ۔اساتذہ کے درمیان میل و محبت کا واقعہ مولامحمد زکریا سنبھلی ہی رقم طراز ہیں کہ حضرت کو اس کا بہت خیال رہتا تھا کہ اساتذہ کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت اور شفقت کا جذبہ ہی رہے، حضرت کا یہ بھی معمول تھا کہ کسی اہم مسئلہ کے پیش آنے پر اساتذہ ہی کو مشورہ کے لئے بلایا کرتے تھے، ایسے ہی ایک موقع پر کسی مسئلہ میں میری اور مولانا نفیس اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ (سابق صدر المدرسین)کی رائے میں اختلاف تھا میرے نزدیک اس مسئلہ میں مولانا کی رائے بالکل قابل قبول نہ تھی۔ اختلاف رائے میں میری زبان سے یہ جملہ نکل گیا مولانا آپ کو اپنی رائے پر بہت اصر ار ہوتا ہے اور ظاہر بات ہے کہ لہجہ بھی کچھ نامناسب ہی رہا ہوگا۔ مولانا نفیس اکبر صاحب نے (بھی جواباً فرمایا) میرا خیال آپ کے بارے میں بھی