واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
باورچی سے زبردستی کھانا تقسیم ہونے سے پہلے دس پندرہ خوراک روٹیاں لے گئے ناظم مطبخ نے حضرت علیہ الرحمہ سے شکایت کی تاکہ طلباء کو لیکر ڈانٹ ڈپٹ دیں (کیونکہ مارنے پیٹنے کا حضرت کا مزاج نہ تھا) حضرت نے شکایت سنی اور فرمایا لڑکے بھوکے ہوجاتے ہیں کل سے مدرسہ آدھا گھنٹہ پہلے کردیا جائے گا تاکہ کھانا پہلے بٹ کر اور ان بیچاروں کو کھانا پہلے مل جایا کرے آج اگر روٹیاں کم پڑیں تو آٹا نکال کر اور پکوالو کچھ پیسے بھی دیئے کہ باورچی کو دے دو نا وقت پکائے گا اگر آٹا زیادہ خرچ ہوجائے تو کیا حرج ہے کیا ایک ہی پاؤ کی خوراک ہوتی ہے پتہ نہیں ایسا کیوں ہے پیٹ بھردینا چاہئے خوراک زیادہ بھی تو ہوتی ہے جب ان طلباء کو پتہ چلا کہ بات حضرت تک پہنچ گئی ہے اور حضرت نے ناظم مطبخ کویہ حکم دیا ہے تو بڑے خوش ہوئے اور حضرت سے اپنے جرم کی معافی طلب کرنے کے لئے آئے یہ ہے طلباء کی ہمدردی کے ساتھ ساتھ تربیت کا انوکھا انداز۔ (حقیقت وصداقت)حضرت کے مدرسہ کے جنات ایک طالب علم نے حضرت علیہ الرحمہ سے پوچھا کہ اپنے مدرسہ میں بھی جنات پڑھتے ہیں فرمایا ہاں ! اس میں تعجب کی کیا بات ہے یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے اور مدرسوں میں بھی پڑھتے ہیں آخر وہ کہاں پڑھنے جائیں کبھی تو انسان کی شکل میں آکر پڑھتے ہیں اور کبھی شکل ظاہر نہیں ہوتی خفیہ طور پر آکر پڑھتے ہیں (بہر حال انسان کا درجہ توجنات سے بڑھا ہوا ہے اس لئے وہ انسانی درسگاہوں سے استفادہ کیلئے آتے ہیں )حضرت نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے افریقی منزل میں ان کو ٹھہرایا صبح حضرت نے فرمایا کہ آج تمہارے شاگردوں نے (جناتوں نے)بہت پریشان کیا۔ سونے نہیں دیا۔ کوئی پیر دبارہا تھا کوئی ہاتھ۔ہیں تو