واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
متوجہ کرنا بڑے انہماک اور تندہی بلکہ ایک طرح سے جو مدہوشی ہوتی ہے اپنی صحت کی طرف سے آنکھیں بند کرکے ان سب سے بے پرواہ ہوکر عبادت سمجھ کر یہ کام کرتے تھے اور جو چیز ان کی امتیازی ہے وہ ایمان و احتساب ہے اور یہی ربانیین کے لئے ضروری ہے کہ جو کام بھی کیا جائے اللہ کی رضا کیلئے ہی کیا جائے، اللہ کی قدرت اور استعانت پر یقین کرتے ہوئے بھی اور پھر اجروثواب کے لالچ سے کیا جائے۔ یہ بات اس وقت ادنی تنقیص کے بغیر تنقیص تو بڑی چیز ہے ادنی تنقید کے بغیر میں کہتا ہوں کہ کوئی مقابلہ نہیں ہے علماء میں میں مقابلہ نہیں کرتا سب اپنی جگہ قابل احترام ہیں الحمدﷲ بعض ہستیاں یہاں بھی موجود ہیں اور جو اللہ کے یہاں چلے گئے ان کے درجے اللہ بلند کرے۔ لیکن بہر حال اپنے مطالعہ وواقفیت کے حدود میں مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو جس درجہ کا مخلص جس درجہ کا فکر مند جس درجہ کا سرفروش کہنا چاہئے اوراپنی صحت و زندگی کو خطرہ میں ڈالنے والا بہت کم دیکھا۔ اور اس کا نتیجہ ہے کہ ان کی وفات پر اس مقبولیت عامہ کا اظہار ہوا جو عرصہ سے کسی ہستی کے بارے میں ہمارے علم میں نہیں آیا۔ اللہ کے یہاں کس کا کیا درجہ ہے اللہ جانتا ہے اوراسی کا اعتبار ہے اورایسا بھی بہت ہوا ہے کہ اللہ کے بعض بندے دنیا سے گئے کہ نماز جنازہ اور تدفین کی نوبت نہیں آئی۔ اس سے کوئی تنقیص نہیں ہوتی۔ اصل چیز تو وہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں ان کے ساتھ جو معاملہ ہو لیکن یہ ایک ظاہری علامت ہے کہ ان کے انتقال پر جس طریقہ سے یہاں مسلمانوں نے ان کے وطن کے صرف نہیں بلکہ دور دراز (بلکہ غیر ممالک ) کے مسلمانوں نے اس تعلق کا اظہار کیا یہ بہت کم دیکھنے میں آیا۔ (اقتباس از تقریر تعزیت مسجد ندوۃ العلماء لکھنؤ)پیر کی نگاہ میں مرید کا عالی مقام جناب مولانا عبدالقیوم صاحب مدظلہ (جمداشاہی بستی) بیان کرتے ہیں کہ