واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اگر حفاظت کی غرض سے کتاب پر ٹیک لگالے تو گنجائش ہے مکر وہ بھی نہیں ورنہ مکروہ ہے حضرت نے فرمایا جب میں سفر میں جاتا ہوں کوئی دینی کتاب جھولے میں رکھی ہوتی اور جھولا کبھی سیٹ کے نیچے رکھ کر سیٹ کے اوپر بیٹھنا پڑتا ہے ، مذکورہ عبارت سے اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے جب اس بکس کے اوپر بیٹھنا جائز ہے، جس میں کتابیں یا قرآن پاک رکھے ہوں تو یہ تو بدرجہ اولی جائز ہوگا، لیکن پھر طبیعت گوارہ نہیں کرتی اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ کتاب نیچے ہو اور اوپر سیٹ پر بیٹھے ہوں اس لئے میں تو عموماً یہ کرتا ہوں کہ جھولے سے کتاب نکال کر رومال وغیرہ میں لپیٹ کر اوپر رکھ لیتا ہوں ، اگر چہ گنجائش ہے لیکن دل میں کھٹک سی معلوم ہوتی ہے، والا ثم ما حاک فی صدرک۔ (مجالس صدیق،ص:۹۵)شدید بیماری میں مطالعہ، درس اور طلباء کی فکر کا واقعہ مولانا احمد عبیداللہ طیب مدظلہ (خلیفہ حضرت والا) فرماتے ہیں ایک دفعہ حضرت کی طبیعت ناساز ہوگئی، کئی دن ہوگئے افاقہ نہیں ہورہا تھا، مہمانوں کی آمد ورفت کی وجہ سے قطعاً آرام کرنے کو نہیں ملتا ہم لوگوں نے درخواست کی کہ حضرت ایک دو دن گھر آرام کرلیں تو جلدی افاقہ ہوجائے گا، پہلے تو انکا ر کرتے رہے، بہت اصرار کے بعد گھر چلنے کیلئے تیار ہوگئے، بعد نماز عشاء چند طلباء کے سہارے گھر تشریف لے گئے، خود سے چلنا بھی مشکل تھا، پھر ہم سب سوگئے صبح ۳بجے ، میری آنکھ کھلی تو دیکھاکہ حضرت کے کمرہ کی بتی جل رہی ہے، قدیم گیٹ کے اوپر والے کمرہ میں میرا قیام تھا وہاں سے فوراً نیچے آیا، دیکھتا کیا ہوں حضرت بیٹھے ، نہ جانے کب آگئے، کیسے آگئے، ہاتھ میں شرح جامی ہے، سامنے تپائی پر کئی شروحات ہیں ، مطالعہ میں مصروف میں نے کہا حضرت آپ کب آئے؟ کیسے آئے؟ طبیعت تو رات میں کافی خراب تھی ایک آدھ دن گھر پر آرام ہی کرلیتے تو