واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
پڑا کہ کچھ دیر حضرت علیہ الرحمہ کو ایک بلند جگہ پر کھڑا کیاگیا کہ وہ اطمینان سے دیکھ لیں ۔ ایک مرتبہ جامع مسجد میں معتکف تھے، کچھ برادران وطن مرد و عورت آئے اور دروازے کے پاس کھڑے ہوگئے کہ باباصاحب سے کام ہے، حضرت کو اطلاع کی گئی تشریف لائے حضرت کو دیکھا تعظیم کی اور کام دریافت کیاگیا تو کہا کہ بس۔ بابا جی کا درشن کرنا تھا۔ مولانا شکیل احمد صاحب سیتاپوری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت کے ساتھ لکھنؤ جارہے تھے باندہ بس پر سوار ہوئے، بس میں حضرت کے قدم رکھتے ہی ہلڑ مچ گئی کنڈکٹر ڈرائیورسب کی زبان پر یہی تھا بابا آگئے بابا آگئے، بہت سے لوگ اپنی جگہ سے اٹھ گئے کہ یہاں آئیے لیکن آپ نہ بیٹھے فرش پر کپڑا بچھایا اور بیٹھ گئے۔سادھو نے پیر دھوئے مولانا خالد مظاہری لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سادھو کو دیکھا کہ وہ حضرت سے ملنے کے لئے آیا تھا اپنے ساتھ ایک پیتل کی تھالی بھی لایا تھا جب حضرت سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس پر اصرار کیا کہ شریمان آپ اجازت دیں ہم آپ کے پیروں کو دھونا چاہتے ہیں حضرت انکار کرتے رہے لیکن وہ سادھو اسی طرح مصر رہا گویا کہ قسم کھارکھی ہے یا کوئی نذر مان رکھی ہے جسکو وہ پورا کرنا چاہتا ہے بہر حال حضرت کو بادل نخواستہ اسکا یہ عمل قبول کرنا پڑا اور فرماتے رہے اللہ تعالی اسے ہدایت سے نوازے۔مصافحہ کیلئے ٹرین کئی بار رکی استاذی حضرت مفتی عبیداللہ اسعدی مدظلہ لکھتے ہیں کہحضرت کا ضلع گنا (ایم پی) کی طرف ایک سفر طے تھا، اس اطراف میں کہیں تبلیغی اجتماع تھا، دور دراز کی جگہ اور کچھ بعض باتیں اوربھی تھیں جن کی وجہ سے یہ بات چل رہی تھی کہ سفر نہ کیا جائے مگر