واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
جاسکامجھے بڑی ندامت ہے میں تو ضرور جاؤں گا انہوں نے گاڑی بھیجی ہے موت و حیات تولگی رہتی ہے جو ہونا ہے اسکو کوئی ٹال نہیں سکتا دواکھاہی رہا ہوں مفتی نجیب صاحب حضرت کے منجھلے صاحبزادے نے دل کے مرض کی خطرناکی کے پیش نظر حضرت کے سفر میں مزاحمت کی کہ حضرت بالکل سفر نہ فرمائیں ڈاکٹر نے سفر کو اس حال میں بہت خطرناک بتلایا ہے۔ حضرت نے فرمایا اگر ڈاکٹر نے کچھ کہہ دیا ہے تو اور جلدی جلدی کام سمیٹنا چاہئے جتنا ہوسکے کام کرلے پتہ نہیں کب کیا ہوجائے آرام کرنے سے صحت ہو یا نہ ہو دونوں ہی باتیں ہوسکتی ہیں ، دین کا کام بھی چھوڑا صحت بھی نہ ہوئی تو کیا فائدہ اگر تھوڑا وقت رہ گیا ہے تو جتنا ہوسکے اتنا کرلے۔ الغرض حضرت لکھنؤ تشریف لے گئے اوروہاں سے تنہا واپس تشریف لائے واپسی پر حضرت نے فرمایا بتاؤ اگر میں نہ جاتا تو وہاں تو کوئی بھی نہ پہونچاتھا نہ مولانا علی میاں صاحب تشریف لاسکے وہ بھی بیمار علیل چل رہے تھے مولانا منظور نعمانی تشریف نہ لاسکے تھے اورجب اطلاع پہونچی کہ میں بیمار ہوں نہ آسکوں گا لوگ رورہے تھے بڑی دور دور سے ملاقات کیلئے لوگ آئے تھے بتاؤ اگر میں بھی نہ جاتا تو ان لوگوں پر کیا گزرتی دومیں سے ایک ہی بات ہوسکتی ہے یا تو میں اپنے کو دیکھ لوں یا دو سروں کو دیکھ لوں ؟اصلاح معاشرہ کے ایک جلسہ میں شرکت اورمنتظمین کی اصلاح حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ کا کانپور میں بعد عشاء متصلاً اصلاح معاشرہ پر بیان تھا حضرت نے منتظمین جلسہ سے تاکید کردی تھی کہ عشاء بعد جلد ہی بیان سب سے پہلے