واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
عرض مرتب زیر نظر کتاب میں عارف باللہ مولانا و مرشد نا حضرت قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی سے وابستہ واقعات و حکایات کو جمع کرکے ہدیۂ ناظرین کیاگیا ہے، دوسرے بزرگوں کے واقعات ودیگر واقعات جو حضرت والا ؒ نے اپنے مواعظ ومجالس میں سامعین کو سنائے تھے وہ اس کتاب کا موضوع نہیں ہیں ، وہ انشاء اللہ علیحدہ سے مرتب کرکے شائع کئے جائیں گے، نیز حضرت کے یہ کل واقعا ت کا بالا ستیعاب احاطہ بھی نہیں ہے اور واقعات کا استیعاب آسان بھی نہیں ہے، کیونکہ حضرت علیہ الرحمہ اپنی ذات اور اپنے کمالات، واقعات وحالات کا اخفاء فرماتے تھے، اپنی پوری زندگی گوشۂ گمنامی میں رکھنا چاہتے تھے، وہ تو قدرت نے آپ کو قطب الارشاد کا مقام عطا فرمایا تھا اس لئے جتنا ہی حضرت نے اپنے آپ کو چھپایا اتنا ہی اللہ تعالی نے آپ کو اجاگر فرمادیا ۔ خود صاحب واقعات حضرت اقدس باندوی نور اللہ مرقدہ کا ارشاد گرامی ہے ، فرمایا اللہ والے اپنے کو چھپاتے بہت ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا جو بھی کام ہو سب اللہ تعالی ہی کے واسطے ہو، نام ونمود شہرت کا جذبہ ان میں بالکل نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالی کامعاملہ یہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب کسی بند ہ کے عمل کے ذریعہ اللہ تعالی کو ہدایت کرنا مقصود ہوتا ہے تو گووہ شخص پہاڑ کی کھومیں بیٹھ کر ہی کیوں نہ کوئی عمل کرے لیکن اللہ تعالیٰ اسکو ظاہر کردیتا ہے۔ یہ جو بزرگانِ دین کی سوانح عمریاں لکھی جاتی ہیں اور لوگوں کے سامنے ان کے حالات آتے ہیں تو کیوں ؟ اسی وجہ سے کہ اللہ تعالی ان کی پاکیزہ زندگی کے ذریعہ دوسروں کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔ نیز فرمایا کہ بہت سے حالات تو بزرگوں کے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو کوئی جانتا بھی نہیں ، کتابوں میں جو لکھے جاتے ہیں وہ تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں خصوصی حالات کی توکسی کو ہوا بھی نہیں لگتی، (افادات صدیق ص: ۴۳۔ج۔۱)