واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کردیا اورکہا کہ مجھے شرم آتی ہے کیا منھ دکھاؤں ، جب تک پل نہیں بن جائے گا اس وقت تک میں نہیں جاسکتا۔ چنانچہ اسکے بعد فوراً تیزی سے کام شروع ہوا اور بہت جلدی بڑا پل بن کر تیار ہوگیا۔ یہ ہے اللہ والوں کی دلوں پر حکومت اور فقیری میں بادشاہی کی مثال۔ارجن سنگھ کی آمد پر حضرت کی استقبالیہ تقریر سابق مرکزی وزیرارجن سنگھ کی ہتھورا آمد ہوئی تو اعزازمیں مختصر ساپروگرام بھی ہوا حضرت نے خطاب فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا: (واضح رہے کہ اس وقت وہ صوبہ کی وزارت علیا کے منصب سے ہٹادیئے گئے تھے) آنے والے آتے جاتے رہتے ہیں مگر آپ کی آمد پر ایسی ہی خوشی ہوئی جیسے وی پی سنگھ کی آمد پر ہوئی تھی (اس لئے کہ انہوں نے کہا تھاکہ آدمی بہت سی جگہ جاتا ہے ، بلانے سے اورنظام بنانے کی بناپر۔ کوئی جگہ ایسی بھی ہو جہاں کہ آدمی خود جائے، یہاں میں آیا ہوں ۔ خود سے آیا ہوں ، صرف بلانے کی بناپر آنا نہیں ہوا۔) آپ کی آمد سے اسی نسبت سے خوشی ہوئی کہ جہاں لوگ آنا اورجن سے ملنا پسند نہیں کرتے، آپ جیسے شخص آئے۔ مبارکباد وشکریہ۔ آپ کی تعریف و حالات سنتا رہا ہوں ، مخالف ہر ایک کے ہوتے ہیں آپ کے بھی ہونگے۔ لیکن میں (ایم پی کے علاقوں میں ) جہاں گیا، تعریف سنی، خوشی ہوئی کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگ اب بھی ہیں ، ایسے ہی لوگوں سے کام اور ترقی ہوتی ہے۔ عہدہ نہیں رہ گیا تو کیا ہے، یہ سب تو فانی ہے، اصل تو کام ہے، بعض مرتبہ یہ سب چیزیں لے لی جاتیں ہیں مگر کام کرنے والاکام کرتا رہتا ہے یہ ملک رشیوں منیوں اور اولیاء کار ہا ہے، ہماری دعاء ہے کہ آپ سے کام لیا جائے، ترقی صرف یہ نہیں کہ بجلی وسڑک کا کام کیا جائے، بلکہ اصل ترقی انسان بنانا ہے، ہم لوگ یہی کام کرتے ہیں ، خطاب میں حضرت