واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
کے واقعات حضرت کی زندگی میں بار بار پیش آئے ہیں اور ان کی کوششوں نے کتنے ہی مسلمان خاندانوں اور دینی اداروں اور آپسی گروپوں کو ہلاکت و بربادی سے بچالیا۔ آخری سفر جو سفر آخرت کا پیش خیمہ ثابت ہوا اس سے چند دن پہلے بھی حضرتؒ اس حال میں کہ ٹانگ کے درد کی وجہ سے قدم زمین پر رکھنا مشکل تھا ایک مدرسہ میں پیدا شدہ باہمی نزاع کو دور کرنے کیلئے باندہ سے سینکڑوں میل کا سفر کرکے ایک جگہ تشریف لے گئے تھے اور واپسی میں لکھنؤ تشریف لائے تھے میرے عرض کرنے پر کہ اس حال میں بھی آپ سفر سے باز نہیں آرہے فرمایا کہ بہت مجبوری اور اہم کام کی وجہ سے یہ سفر کیا ہے اور بہت ضرورت اسکی تھی اور یہ مذکورہ بالا بات بتائی اور فرمایا الحمدﷲ سفر مفید رہا اہل مدرسہ اختلافات ختم کرنے پر راضی ہوگئے۔ (حضرت مولانا محمدزکریا صاحب سنبھلی)اسلام کے وقار اور مسلمانوں کے اتحاد کیلئے حکمت عملی کا نمونہ ایک بار ہتھورا میں عیدکا چاند معتکفین حضرات نے اور دوسر ے لوگوں نے بھی دیکھا اعتکاف ختم کرکے لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے حضرت علیہ الرحمہ کو قصبہ ہنسور ضلع فیض آباد جانا تھا وہاں کے لوگوں نے بعد نماز عید جلسہ منعقد کررکھا تھا۔ جب حضرت باندہ پہونچے تو وہاں رویت ہلال کی شہادت ، اختلاف مسلک کی وجہ سے غیر مقبول تھی ہی کافی رات گذرنے کے بعد جب رویت کا کوئی اعلان نہ ہوا تو حضرت نے اپنے حلقہ کے لوگوں سے کہا اگر وہ لوگ کل عید نہ کریں تو آپ لوگ تو روزہ نہ رکھیں کیونکہ چاند دیکھا گیا ہے اور نماز عید بھی نہ پڑھیں دوسرے دن پڑھ لینا۔ تاکہ غیر مسلموں کی نظرمیں ہم مسلمان الگ الگ نظرنہ آئیں ورنہ اسلام کی قوت پامال ہوجائے