واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تقریظ از:حضرت مولانا مفتی محمد زید صاحب مظاہری ندوی خادم خاص و خلیفہ مجاز صحبت حضرت باندویؒ استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ یہ حقیقت ہے کہ انسان کی اصلاح وتربیت اور اس کی ذہن سازی میں قصص و واقعات کو بڑا دخل ہے،اسی وجہ سے قرآن و حدیث میں کثرت سے گذشتہ قوموں کے واقعات بیان کرکے عبرت دلائی گئی ہے،ارشاد خدا وندی ہے: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصَ بِمَا اَوْ حَیْنَا اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ ۔ (سوہ یوسف پ ۱۲) (ترجمہ)ہم آپ کے سامنے بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اس قرآن کے ذریعہ جو ہم ے آپ کی طرف وحی کیا لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِاُوْلِیْ الْاَلْبَابِ ۔(سورہ یوسف پ۱۳) (ترجمہ)یقینا ان کے قصوں میں عقل والوں کے لئے عبرت ہے۔ فَاعْتَبِرُوْا یَا أولِی الأَبْصَارِ (سورہ الحشر،پ۲۸) تو اے بصیرت والو اعبرت پکڑو۔ اسلاف اور بزرگوں کے واقعات بھی اسی غرض سے جمع کئے جاتے ہیں کہ ان کے پڑھنے اور سننے سے بسا اوقات وہ تأثر ہوتا ہے جو بڑے بڑے جلسوں کی تقریروں سے نہیں ہوتا ،نیز واقعات کے پڑھنے اور سننے میں طبعی طور پر دلچسپی بھی زیادہ ہوتی ہے خصوصاً ان بزرگوں کے واقعات سے جن کی دل میں وقعت وعظمت اور گہری عقیدت ہو،اس لئے بزرگوں نے اپنے اسلاف اور مشائخ کے واقعات کو ضبط کرنے اور جمع