واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
قیامت میں کہیں مجھ سے پوچھ نہ ہوجائے حضرت گورکھپور تشریف لے گئے تھے۔ صبح کوآگے کا نظام تھا اتفاق سے’’ آنول‘‘ قصبہ کے لوگ پہونچ گئے تھے، انہوں نے تقاضا کیا، حضرت بعد فجر تشریف لے گئے اوربیان کیا تو بیان کوان الفاظ سے شروع فرمایا: ’’انول والے حضرات اس سے پہلے بھی مجھ سے کہہ چکے تھے مگر اس وقت موقع نہیں مل سکا تھا، اب پھر انہوں نے کہا توباوجود اس سے کہ وقت میں گنجائش نہ تھی، ابھی’’ بڑہل گنج‘‘ جانا ہے ، پھر وہاں سے کوپاگنج وغیرہ مگر میں نے اس وجہ سے منظور کرلیا کہ ’’اگر آئندہ مجھ کویہاں آنے کا موقع نہیں مل سکا ، تو کہیں قیامت میں مجھ سے پوچھ نہ ہوجائے کہ آنول کے لوگوں نے دین کی بات سنانے کو کہا تھاتم نے کیوں نہیں سنائی، وہاں کے لوگ فرمائش کررہے تھے اور تم نے پہلو تہی کیوں کی بس میں اس خیال کی وجہ سے یہاں چلا آیاتم لوگوں سے کہتا ہوں کہ آخر تم لوگ بھی کچھ کروگے یا نہیں ؟؟انوکھے سفر حضرت والا کی جس طرح عمر بڑھتی گئی شہرت اور اسفار کی بے پناہ کثرت ہوگئی حضرت والا قاری صاحب ؒ کے اسفار کے لئے باضابطہ اصول نہ تھا پیدل۔ سائیکل ، بیل گاڑی، موٹر سائیکل ٹرک بس اور ٹرین سے ہر طرح سفرفرماتے تھے کاموں کے ہجوم کی وجہ سے کہیں قیام نہیں فرماتے جس نے جس طرح پروگرام مانگا اسی طرح وقت دے دیا۔ کبھی کبھی بے ترتیب سفر کی وجہ سے سفر بھی بہت زیادہ طویل ہوجایا کرتا تھا کئی روز تک سونے اور آرام کرنے کیلئے کوئی وقت میسر نہیں آتا تھا جس کے نتیجہ میں صاحب فراش مریض کی طرح نڈھال ہوجاتے تھے، مگر پھر بھی آرام نہیں فرماتے تھے حضرت والا کے