واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تربیت اوران کے ساتھ حسن سلوک ، دینی اسفار کی کثرت، مجاہدہ و مشقت ، یتیموں ، بیواؤں اور لاوارثوں کی کفالت ، دینی تعلیم کیلئے گاؤں گاؤں قیام مدارس اور مدارس کی فکر اورانکی سرپرستی کی، بلاتفریق ملت ہر ایک کی خیر خواہی، بیماروں کی شفاء ، دعاء، تعویذ وغیرہ کے ذریعہ لاچاروں کی مدد اور اس جیسی ہزارہا قربانیوں میں گھری ہوئی مشغول زندگی تھی اسی کے ساتھ آپ بہترین شاعر درجنوں کتابوں کے مصنف بھی تھے۔مرضِ وفات: حضرت کی زندگی جہد مسلسل تھی نہ سونے کا وقت ٹھیک نہ کھانے کا کوئی معمول نہ کسی قسم کا سکون و آرام، حاجتمندوں پر اپنے کو قربان کئے رہتے تھے، یہی ظاہری اسباب تھے جس سے حضرت مسلسل علیل رہتے تھے مختلف قسم کے شدید امراض لاحق تھے، ۲۲؍ ربیع الثانی بدھ کو حسب معمول بیماری کے ساتھ ہی بعد ظہر بخاری شریف کے درس کی تیاری میں وضو فرمارہے تھے کہ جسم پر لرزہ طاری ہوا۔ حضرت نے فرمایا کہ مرض نہیں موت کا وقت معلوم ہوتاہے ۔ آپ نے اسی حال میں نماز ادافرمائی، صاحبزادگان و خدام ہتھورا سے باندہ بعدہ لکھنؤ نرسنگ ہوم میں لے گئے، حضرت نے سب کو سلام کہلایا اور مہمانوں اور مدرسہ کے ساتھ خیر خواہی رکھنے کی تلقین کی پھر آپ پر غشی طاری ہوگئی اور دس بجے دن بروز جمعرات ۲۳؍بیع الثانی ۱۴۱۸ھ مطابق ۲۸ ؍اگست ۱۹۹۷ء کو اللہ کا ولی اپنے مولیٰ سے جاملا، جسد خاکی لکھنؤ سے ہتورا لایاگیا نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا قاری حبیب احمد صاحب مدظلہ نے پڑھائی جس میں لاکھوں مسلم وغیر مسلم حضرات اس محسن کی وفات پر غم میں ڈوبے ہوئے ہتورا حاضر ہوئے اور ہفتوں مجمع تعزیت کے لئے آتا جاتا رہا۔باقیات صالحات: آپ کے تین صاحبزادے ہیں ماشاء اللہ ہر سہ عالم و حافظ وقاری اوردین کی خدمت میں مصروف عمل اورحضرت کی حیات کو مشعل راہ بنائے ہوئے ہیں اور چار صاحبزادیاں ہیں ماشاء اللہ سبھی صالح اور صاحب اولاد ہیں ، آپ کی