واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
قاری طیب صاحبؒ کی آمد پر اہل بدعت کی ناکام سازش باندہ کے بدعتیو ں کو جب علم ہوا کہ قاری محمد طیب صاحب تشریف لار ہے ہیں تو انہوں نے بڑا شور برپا کیا کہ وہابیوں کا امام آرہا ہے پورا زور لگادیاکہ باندہ کی سرزمین پر قاری صاحب تشریف نہ لاسکیں ، کوتوالی میں جاکر اطلاع کردی کہ ان کے آنے سے فتنہ کا خطرہ ہے، دیگر افسران سے مل کر پابندی لگانا چاہی تھی لیکن شمیم محسن کے والد صاحب خود مجسٹریٹ تھے، بڑے افسران سے ان کے گہرے روابط تھے، اس لئے مخالفین کی کچھ نہ چلی، بدعتیوں نے بڑا زور لگایا اور بہت شوروغل مچایا بڑے بڑے لوگوں کے پاس جاکر کہا کہ ان کو ہر گز نہ آنا چاہئے، پولیس داروغہ سب سے ملے، جب زیادہ تدبیر یں کیں تو شمیم محسن صاحب نے ایک تدبیر اختیار کی کہ سب کی دعوت کردی مخیر آدمی تھے، اللہ نے خوب دیا تھا چنانچہ عمومی پیمانہ پر باندہ کے تمام بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کردی اوراس طرح سب کا منھ بند کردیا، جب ہر طرف سے مخالفین ناکام ہوئے تو ایک تدبیر اوراختیار کی کہ اطراف اور دیہاتیوں میں جاجاکر پروپیگنڈہ کیا کہ ایک وہابی کا فرآرہا ہے کوئی اس سے ملنے نہ جائے اس کی تقریر نہ سنی جائے پورا علاقہ میں ہلچل مچ گئی اوران لوگوں نے پورا زور لگادیا کہ ایک آدمی بھی جلسہ میں شریک نہ ہونے پائے، منو بھائی کو جب اس کا علم ہوا تو اپنی تمام گاڑیاں بالکل فری کردیں اس وقت ان کی بارہ گاڑیاں چلتی تھیں چاروں طرف بسیں پھیلادیں جس کو آنا ہے آئے کوئی کرایہ نہیں ، پھر کیا تھا کھچاکھچ بھرے ہوئے آدمی گاڑیوں سے آنے لگے اطراف اوردیہات سے کافی لوگ جمع ہوگئے۔ ان کم بختوں نے ایک شرار ت اور کی عین وقت میں جب کہ مجمع کافی ہوچکا تھا جامع مسجد کا سارا پانی جو ٹینکوں اورڈراموں میں بھرا ہوا تھا سارا پانی چپکے سے بہادیا۔ اب پینے کے لئے پانی نہیں ، بڑی سخت پریشانی ہوئی کہ اب کیا کرنا چاہئے فوراً کچھ لوگوں نے