واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
سمدھیانے کے مہمانوں کے مقابلہ میں مدرسہ کے مہمانوں کو ترجیح حضرتؒ کی بڑی صاحبزادی کی شادی کو کچھ ہی دن گذرے تھے۔ ان کی سسرال کے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے، غالباً ان کو سسرال لے جانا تھا۔ ان حضرا ت کا قیام دو تین دن ہتھوڑا میں رہا، ان لوگوں کی کئی کئی رشتہ داریاں اس گاؤں میں تھیں ، ایک دن ان لوگوں کا رات کا کھانا مولانا کے ایک قریبی عزیز کے یہاں تھا۔ عصر کے بعد ذرا اچھی سی بارش ہوگئی اور گاؤں کے راستے خراب ہوگئے جن صاحب کے یہاں دعوت تھی انہوں نے حضرت کے گھر کھانا بھجوادیا اورکہلادیا کہ مہمان ہمارے یہاں تشریف نہ لائیں کہ کیچڑ ہے اس میں زحمت ہوگی۔ اللہ کا کرنا مغرب کے کچھ دیر بعد کانپور کے کئی مہمان اچانک مدرسہ میں پہنچے حضرت کو ا نکے کھانے کی فکر ہوئی گھر جاکر کانپور کے ان مہمانوں کا ذکر کیا اورمعلوم کیا کہ کھانے کو کچھ ہے؟ اہل خانہ نے پوری بات بتلادی اوریہ بھی کہ ہم لوگوں کی دعوت بھی چونکہ وہاں تھی۔ اس لئے ہمارے لئے بھی کھانا وہیں سے آیا ہے، گھر میں کچھ نہیں پکا ہے، حضرتؒ نے بہت خوشی کا اظہار کیا اورکہا کہ یہ کھانا مدرسہ بھیج دو اورتم لوگ کچھ دلیہ یا چاول وغیرہ پکالو وہاں سے جو بچ جائے گا آجائے گا۔اوروہی ہوا گھر سے وہ کھانا آگیا کانپور کے مہمانوں نے کھایا اورجو بچا وہ اپنے مہمانوں کو کھلادیا ۔ اپنے سمدھیانہ کے مہمانوں کے مقابلہ میں مدرسہ کے مہمانوں کو ترجیح دینا بڑا مشکل کام ہے۔ (از مولانا زکریا سنبھلی)یہ تو صرف آپ کیلئے پکتی ہے حضرت مولانا محمد زکریا صاحب سنبھلی اپنا واقعہ بتاتے ہیں کہ مجھے ہتھوڑا آئے ہوئے شاید چند ہی ہفتے گذرے تھے جب میں نے الگ کھانا شروع کردیا۔ تومطبخ سے