واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
وقت کی قیمت کا احساس وقت کی جتنی قدر دانی حضرت کے یہاں دیکھنے کو ملی اس دور میں کہیں اسکی نظیر نہیں ۔ مولانا کا ایک ایک لمحہ ایک ایک سکینڈ بہت قیمتی انتہائی مصروف اوردینی خدمت میں مشغول تھا، وہ جن کاموں میں اپنے اوقات کو صرف کرتے تھے، ان کو دین سمجھ کر ہی اپنا وقت لگاتے تھے، مدرسہ میں بڑی بڑی اورمشکل کتابوں کے پڑھانے اور حل کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیرات کا انتظام، بلکہ عملاً اس میں مزدوروں کی طرح خود جٹ جانا، پھر طلباء کی خبر گیری ان کے علاج ومعالجہ اور کھانے کی فکر مدرسہ کے مطبخ پر نظر بہت سے واردین و صادرین سے ملاقاتیں ، مہمانوں کی میزبانی اور مہمانوں کی حیثیت کے اعتبار سے انکا خیال بلکہ ان کی حیثیت سے کہیں زیادہ ان کا اکرام اور راحت رسانی کی فکر اور روزانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں تعویذوں کا لکھنا اور دیگر حاجتمندوں کے کام آنا اور پھر ان سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ تصنیف وتالیف وعظ ونصیحت کا یومیہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا تھا، یہی سب معمولات قیام کے علاوہ اسفار میں ساتھ لگے رہتے سفر میں جہاں کچھ وقت فارغ ہوا تلاوت کا عمل جاری ہوجاتا بعض دفعہ لمبے سفر میں کئی کئی قرآن کی تلاوت ہوجاتی حضرت مولانا زکریا صاحب سنبھلی فرماتے ہیں کہ میں ایک بار ممبئی کے سفر میں ساتھ تھا، لکھنؤ سے یہ سفر ہوا تھا، کانپور میں کچھ حضرات ملنے کیلئے آئے پھر جھانسی میں بھی کچھ لوگوں نے ملاقات کی۔ ضرورتمندوں کو بھی حضرت کا پروگرام معلوم رہتا تھا، جھانسی سے رات کے دو بجے کے قریب گاڑی چلی تھی مجھے تو دوبارہ نیند آگئی۔ لیکن حضرت تہجد میں مشغول ہوگئے ، ۳بجے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ نماز سے فراغت کے بعد دعاء ومناجات میں مشغول ہیں ممبئی کا یہ سفر ہوا پھر ممبئی کے بعد بھٹکل کرناٹک تک تھا، بھٹکل کے قریب انتہائی حسین و جمیل قدرتی مناظر ہیں ، سفر کے دوران ان کو دیکھنے لگا اور ایک دوبار حضرت