واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
دیا۔ مجاہدات اور مشقتیں رنگ لائیں اور مدرسہ اسلامیہ ہتھورا جو نہایت عسرت اور تنگدستی سے ۱۹۵۳ء میں قائم ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ ایک عظیم مرکزی بین الاقوامی ادارہ بن کر ابھرا اور جامعہ عربیہ ہتھورا کے نام سے دنیائے علم و فن کا مرکز توجہ بن گیا۔اصلاح بین الناس کی کامیاب کوشش حضرت والا کو اصلاح بین الناس کی بڑی فکر رہتی تھی وہ لوگ جو دیندار کہے جاتے ہیں یا کسی دینی جماعت یا ادارہ سے وابستہ ہیں جن کا اختلاف نہ صرف دو شخصیتوں یا دو گروہوں کا اختلاف ہوتا ہے ، بلکہ اسکے نتائج بڑے دور رس اور بڑے مضر ہوسکتے ہیں ، ایسے لوگوں کے اختلافات کو دور کرنے کیلئے حضرت بڑی کوشش فرماتے اور جو کچھ بن پڑتا، اس سے گریز نہ کرتے، ایک مدرسہ کے دو استادوں میں کچھ اختلاف ہوگیا اور بات کچھ حد سے متجاوز ہوگئی حضرت نے ان دونوں کے درمیان صلح کرنی چاہی ان میں سے ایک تو راضی ہوگئے، لیکن دوسرے جن پر کچھ زیادتی ہوگئی تھی کسی طرح راضی ہونے اور دوسرے کے معافی مانگنے پر بھی معاف کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ جب وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے تو حضرت نے اپنی ٹوپی اتاری اور ان کے قدموں پر ڈال دی، ہم لوگوں پر تو جیسے بجلی گرگئی اور مجلس میں ایک سکتہ سا سب کو ہوگیا، لیکن حضرت کے اس عمل نے اپنا کام کردیا اورآخر ان کا دل بھی نرم پڑگیا اورانہوں نے بھی حضرت کے ارشاد کے مطابق مصالحت کرلی۔ اسی طرح کا واقعہ لکھنؤ کے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح و صفائی کرنے کے سلسلے میں بھی پیش آیا اور جب کچھ پرجوش نوجوانوں کو مصالحت کے لئے حضرت کسی طرح تیار نہ کرسکے تو آخر میں روتے ہوئے اپنی ٹوپی اتار کر ان کی قدموں پر ڈال دی اورنتیجہ یہاں بھی اچھا برآمد ہوگیا اور الحمدﷲ ایک خطرناک قسم کا خون خرابہ ٹل گیا۔ اس قسم