واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ہے، آپ لوگ چلے جائیں دو گھنٹہ بعد آئیں ، لوگ چلے گئے، اوپر امام صاحب کے حجرہ میں گئے، اس وقت امام صاحب نہیں تھے صرف مؤذن صاحب مسجد میں تھے پانچ دس منٹ حضرت لیٹ گئے پھر اٹھے مؤذن صاحب سے کہا آپ اپنا ناشتہ دان دے دیں ، جیب سے پانچ روپئے نکالے اور مجھ سے کہا یہ ناشتہ دان لو ادھر بھی راستہ ہے اس سے باہر چلے جانا، تندوری روٹی، پاؤ بھر ٹماٹر اور دو پیاز کی ڈلی لے آنا، قریب ہی دوکانیں تھیں ، تھوڑی دیر میں لیکر حاضر ہوگیا، کہا چٹنی بناؤ، بنائی گئی پھر روٹی کھائی گئی، تب سکون ہوا۔ پھر کچھ دیر کے لئے لیٹ گئے جب وقت ہوا دروازہ کھولا گیا لوگ آئے اور خواہش کرتے کہ کھانا ہمارے یہاں کھائیں ہمارے یہاں کھائیں ، حضرت فرماتے کہ ہم کھانے سے فارغ ہوگئے، اب خواہش نہیں ہے، اللہ اکبر میں سوچتا رہ گیا یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے، یہاں ایک نہیں سینکڑوں چاہنے والے ہیں پھر یہ استغناء کا عالم، اس میں ایک پہلو تو اس نالائق کی تربیت کا تھا، دوسرا پہلو یہ کہ کسی چاہنے والے کی دل شکنی نہ ہو حضرت اس کا بطور خاص ہر معاملہ میں خیال رکھتے تھے، چونکہ یہ سفر کسی کی دعوت پر نہیں تھا اب کسی ایک کی دعوت قبول کرلیتے تو دوسرے کی دل شکنی ہوسکتی تھی واللہ اعلم۔الفقر فخری کی شان: ایک مرتبہ کچھ متمول عقیدتمندوں نے پیش کش کی کہ حضرت کی تمام سہولتوں سے آراستہ ایک سیلون نما موٹر کار فراہم کردی جائے، مگر حضرت نے اپنی فقیرانہ شان بے نیازی کے ساتھ یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیاکہ اس سے میری عادت خراب ہوجائے گی اللہ اللہ اس دور فراخی میں جب کہ چھوٹے چھوٹے اداروں اور غیر اہم شخصیتوں کے پاس بیش قیمت گاڑیاں ہیں حضرت کا یہ جواب الفقرفخری کا کیسا لاجواب نمونہ ہے۔ (مولانا شاہین جمالی) استاذی حضرت مفتی عبیداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عجیب قصہ ہوا ممبئی کے ایک تاجر نے حضرت سے بے تکلف ایک صاحب کو جن کا اپنا بھی ایک جگہ ادارہ