واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اورخوبصورت بنانے کی کوشش کی اوران کی تجویز یہ بھی تھی کہ ایک بڑا سا گنبد بھی اسکے اوپر بنایا جائے ۔ حضرت کو جب اسکا علم ہوا تو فرمایا گنبد وغیرہ کچھ نہیں بنے گا اورجس طرز پر گیٹ کے منارے بن رہے تھے جس میں پیسہ بھی کافی خرچ ہورہا تھا اسکے متعلق حضرت نے فرمایا کہ اسکا پیسہ مدرسہ سے نہیں دیا جائے گا اپنی جیب سے مجھے بھرنا پڑے گا میں خود اسکا پیسہ اداکروں گا مدرسہ کا پیسہ اسطرح کی عمارت میں کیسے لگایا جاسکتا ہے اورفرمایا کہ یہ سب کچھ میرے پوچھے بغیر ہورہا ہے مجھ سے پوچھنا توچاہئے کہ اس انداز کے منارے تعمیر ہورہے ہیں ، اصل قصور تو میرا ہی ہے دوسروں کو کیا کہوں ، مجھ کو خود جاکر دیکھنا چاہئے لیکن مجھے سفر ہی سے چھٹی نہیں ملتی برابر سفر پر رہا اگر کچھ موقع ملا تو فوراً پڑھاکر چل دیا جیسی غلطی کی ہے ایسا بھگتوں گا۔(یہ اتفاقی امر ہے کہ طویل سفر اور زینہ سے چڑھنا دشوار ہونے کے باعث حضرت اسکا معائنہ نہ فرماسکے اور دوسروں نے اپنی منشاء کے مطابق مزین تعمیر کرڈالی اور حضرت نے اسکا خرچ اداکیا ورنہ تعمیری کام کی حتی الامکان پوری نگرانی سارے اسفار و مشاغل کے ساتھ جاری رہتی تھی)طلبہ پر خرچ کرنے کا سلیقہ جھانسی سے ایک صاحب اپنی گاڑی سے تشریف لائے اور طلباء کو تقسیم کرنے کیلئے معتدبہ مقدار میں مٹھائی(لڈو) بھی ساتھ لائے، حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ نے اس کو پسند نہیں فرمایا اوران سے دریافت کیا کہ آپ نے اس میں کتنے پیسے خرچ کئے، انہوں نے جواب دیا کہ تین ہزار کے لڈو ہیں حضرت نے ارشاد فرمایا آپ نے اتنے پیسے خرچ کئے اورنتیجہ بھی کچھ نہ نکلا کم از کم آپ مجھ سے مشورہ کرتے کہ میں اتنے پیسے خرچ کرنا چاہتا ہوں میں آپ کو صحیح مشورہ دیتا کتنے غریب بچے ہیں سردی میں انکے پاس پہننے اوڑھنے کے گرم کپڑے نہیں میں اسکا انتظام کرتا، کھلانا ہی تھا تو میں گوشت وغیرہ پکواکر