واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
پر تنبیہ کی جائے ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے کام کو کیوں بدنام کیا جائے۔دعوت قبول نہ کرنے کا عجیب اصول شہر باندہ میں تبلیغی جوڑتھا ایک امیر صاحب جماعت لیکر آئے تھے حضرت نے فرمایا کہ باندہ میں ایک پیارے وکیل میاں صاحب ہیں جنہوں نے جماعت میں ایک سال کا وقت لگایا ہے ان کے پوتے کا عقیقہ تھا ، عقیقہ تو ان کو کئی روز پہلے ہی کرنا تھا لیکن وہ صرف اس وجہ سے رکے رہے کہ تبلیغی جوڑہونے والا ہے اس وقت کرونگا، تاکہ جماعت والے کھانا کھالیں ان کی دعوت ہوجائے گی کتنی اچھی بات تھی ہم لوگوں کی بھی رائے یہی تھی، لیکن جماعت کے امیر صاحب آئے اورکہنے لگے کہ جو صاحب دعوت کررہے ہیں ان کا چلہ لگا ہے یا نہیں معلوم ہوا کہ نہیں لگا ہے کہنے لگے بس دعوت قبول نہیں کریں گے، یہ بات ان کی اچھی نہ لگی لیکن میں نے صبر سے کام لیا (کیوں کہ وہ تیز مزاج تھے مزید نقصان کا اندیشہ تھا) ہر جگہ اس قسم کے اصول نہیں چلانا چاہئے اس کا محل اور موقع دیکھنا چاہئے آخر ان اصولوں کا مقصد کیا ہے مقصد تو صرف یہ ہے کہ لوگوں کودین سے قریب کیا جائے، دین کی طرف راغب کیا جائے اگر دعوت کھاکر لوگ دین سے قریب ہوں گے تو دعوت کھائیں گے اگر دعوت نہ کھاکر قریب ہوں گے تو دعوت نہ کھائیں گے مقصود تو دین سے قریب کرنا ہے اس طرح تو اصول برتنے سے لوگ اوربدظن ہوجائیں گے بجائے قریب کے اور دور ہونے لگیں گے ۔ ایسے لوگوں سے دین کا نقصان ہوتا ہے۔ لیکن میں نے ان کی یہ باتیں برداشت کرلیں ، خامیاں ہر ایک میں ہوتی ہیں اگر ان سب باتوں پر نظر کی جائے تو کام ہی بند ہوجائے۔ حضرت نے فرمایا البتہ اسکا لحاظ رکھنا چاہئے اگر کسی دیہات میں پہونچے وہاں غریب لوگ ہیں ، بیچارے دس آدمیوں کا انتظام نہیں کرسکتے وہاں دعوت نہ کھانا چاہئے ،