واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تھے ان کی مناسبت سے گاڑی کا نام تلسی ایکسپریس رکھا جائے چنانچہ مذکورہ ترمیم کے بعد حضرت مولانا نے گاڑی کا افتتاح فرمایا اور ہری جھنڈی دکھلاکر تلسی ایکسپریس کو ممبئی کے لئے روانہ کیا۔ اترپردیش اور بعض جگہ اسکے علاوہ بھی سب ہی جگہ ٹرین میں جب حضرت کو سوار ہوتے دیکھا گیا تو ٹی ٹی گارڈ وغیرہ ملاقات کرنے پہونچ جاتے حضرت کے علاوہ رفقاء وغیرہ کیلئے برتھ وغیرہ کا انتظام آنا فاناً ہوجاتا لیکن حضرت اپنے کو چھپاتے لیکن آپ کا خلوص رنگ لایا اللہ تعالی ہی نے آپ کو اُجاگر فرمایا۔ مولانا محمد طلحہ قاسمی خلیفہ ذوالفقار صاحب نے بتایا کہ صدیق کے بجائے ’’تلسی ‘‘ اور باندہ کے بجائے الہ آباد سے نئی ٹرین چلانے کا حضرت کا مشورہ بڑی دور اندیشی اور مؤمنانہ سیاست اور فراست کی بناپر تھا کیونکہ مخالفین صدیق نام کو پسند نہ کرنے اور باندہ سے ٹرین کو پوری سواری نہ ملتی چنانچہ بہانہ بناکر یہ ٹرین چند سالوں میں بند کردیجاتی اب اسکا اندیشہ نہ رہا۔تبلیغی اجتماع میں غیر مسلموں کی محنت و خدمت اور ہندوؤں کی خاطر داری کل ہند تبلیغی اجتماع جو پہلی بار ہتھورا میں ہونے والا تھا اسکے لئے تیاریاں کافی پہلے سے شروع ہوگئی تھیں مدرسہ کے مشرقی جانب جو مختلف حضرات کے کھیت تھے اور جو کافی ناہموار تھے ان کو ہموار کرنا تھا اس کام میں ہتھورا اوراسکے قرب و جوار کے دیہات کے مسلمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر مسلم حضرات بھی باقاعدہ لگے ہوئے تھے روزانہ صبح کو اپنے گھروں سے آجاتے اور شام تک کام کرکے گھر واپس چلے جاتے یہ کام اوراسکے لئے آمدورفت کا سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا قرب و جوار کے دیہاتوں میں سے’’ الہیہ‘‘ کلکٹر پوروہؔ، اوردوہاؔ کے ہندوؤں نے اس سلسلہ میں ہر طرح کا تعاون کیا تھا