واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کی کوئی چپل لے گیا، حضرت والا کو اس کی فکر ہوئی، احقر سے فرمایا کہ ان کی چپل تلاش کرو، احقر نے تمام مواقع جہاں چپل اتاری جاتی ہیں خوب اچھی طرح دیکھا لیکن کہیں نہیں ملی حضرت والا کو سخت پریشانی لاحق ہوئی اور ندامت بھی ہوئی، طلباء کو جمع کرکے فرمایا چپل کون لے گیا ہے کیا طالب علم ایسے ہی ہوتے ہیں جوچوری کریں ؟ جس کی ابھی سے یہ عادت پڑگئی ہو آگے چل کر اس کی عادت خراب ہوتی ہی چلی جائے گی، ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جب کسی مدرسہ کے مدرس یا مہتمم بن جاتے ہیں تو جی بھر کر خیانت کرتے ہیں ،جب ایک دو روپئے میں نیت خراب ہوتی ہے تو وہاں تو ہزاروں کو ہضم کرنے کا موقع ملے گا، وہاں کون پوچھنے والا ہے، خرچ کریں گے دور وپئے تو لکھائیں گے دس روپئے، وہ تو لاکھوں پر ہاتھ مارے گا، خدا کا خوف تو دل میں ہے ہی نہیں ، دین ودیانت داری بھی نہیں ، لیکن ایسا شخص بہت جلد ذلیل ہوتا ہے، وہ تو سمجھتا ہے کہ کون مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، کسی کو میری حرکتوں کا علم نہیں ، لیکن اللہ تعالی اس کو ذلیل کرہی کے رہتا ہے، اور جس کی عادت خراب ہوجاتی ہے پھر اس کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے وہ بڑا ہوجائے گا، پڑھ لکھ کر فارغ ہوجائے گا، کسی مدرسہ کا مدرس ہوجائے گا، مہتمم ، ناظم شیخ الحدیث بن جائے گا پھر بھی اس کی عادت نہ جائے گی۔ (مجالس صدیق)ایک چور مولوی صاحب کا قصہ سہارنپور میں ایک صاحب کی ایسی ہی عادت خراب ہوگئی تھی، جس کا سامان چاہا بغیر پوچھے لے لیا، معمولی سی چیز سمجھ کر اٹھالیا، رفتہ رفتہ ان کی عادت خراب ہوگئی چوری کرتے گئے، بڑے ہونے اور مدرس ہونے کے بعد بھی ان کی یہ حرکت نہ گئی، پڑھاتے تھے لیکن چوری کرتے تھے، لیکن آخر کب تک پردہ پڑا رہتا ، ایک مرتبہ سفر میں گئے ایک شخص کی اٹیچی پر ہاتھ مارا، تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا تو پکڑے گئے اور بری طرح