واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تکلیف حضرت سے دیکھی نہ جاتی تھی، اس وقت حضرت نے کوئی دعاء پڑھ کر اپنے دست ِ خاص سے لعاب دہن کانٹے کی جگہ پر لگادیا اورفرمایا کہ گھبراؤ نہیں انشاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا۔ چنانچہ درد تو بالکل ٹھیک ہوگیا اگرچہ کانٹا اندر موجود تھا ، اورمجھ کواسکا خیال تک بھی نہ رہا کہ کبھی پیر میں کاٹنا بھی لگا تھا، البتہ کانٹا لگنے کی جگہ ایک نشان اورابھرا ہوا دھبہ سا پڑگیا تھا ، لیکن درد بالکل نہ تھا، ایک مدت کے بعدجب کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کبڈی کھیل رہا تھا، اچکتے پھاندتے ساتھی نے ٹانگ پکڑکر جو مجھے گھسیٹنا چاہا تو میں نے چھلانگ لگاکر نکلنے کی کوشش کی لیکن پیر کا پنجہ ساتھی نے زور سے پکڑا اور کانٹے کی جگہ پر جوان کے ہاتھ کا جھٹکا لگا، ان کی گرفت اور جھٹکے سے وہ دھبہ مردہ کھال معہ لمبے کانٹے کے خارج ہوکر ان کے ہاتھ میں رہ گیا اورمیں کود کر آگے نکل گیا، اس وقت دیکھا کہ کتنا لمبا کانٹا تھا اور اتنے عرصہ تک پیر کے اندر بنارہا نہ درد اور تکلیف کا احساس نہ زخم نہ ورم اور بغیر دوا و آپریشن کے بالکل آرام، یہ صرف اللہ کا فضل و کرم اور حضرت کی کھلی کرامت کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس طرح کے حضرت کے بے شمار واقعات ہیں ۔ (حیات صدیق، ص:۱۸۳)ایک گستاخ طالب علم کا عبرتناک انجام حضرت والا نور اللہ مرقدہ نے خود اپنا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک طالب علم یہاں رہتا تھا، اس نے مجھے بہت زیادہ پریشان کیا، مجھے بالکل تنگ کردیا تھا میں عاجز ہوگیا اور صبر کرتا رہا بلکہ اسکے ساتھ ہمیشہ اچھا ہی سلوک کیا، میں نے کبھی اسکے لئے یہ بددعاء نہیں کی، لیکن اللہ تعالی نے اسکو عذاب میں مبتلا کردیا وہ کوڑھی ہوگیا بالکل معذور ہوگیا، اب بھی اس سے ملاقات ہوتی ہے بلکہ میں خود اس سے ملاقات کرنے جاتا ہوں ، اوراچھی طرح اسکے ساتھ پیش آتا ہوں ، حسن سلوک کرتا ہوں ،