واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
طلب علم کیلئے راتوں رات خفیہ سفر کا دلچسپ واقعہ حضرت والا نے حفظ بعدہ عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں جو ماموں پڑھاسکتے پڑھنے کے بعد تعلیم مکمل کرنے کی ٹھان لی تھی لیکن حالات کسی طرح سازگار نہیں تھے۔اسکے باوجود حضرت فرماتے تھے کہ میں نے یہ تو طے کرلیا تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کیلئے مجھے کسی مدرسہ میں جانا ہے لیکن پانی پت کے علاوہ میں کسی مدرسہ کا نام بھی نہ جانتا تھامیرے علم میں اگر کسی مدرسہ کا تصور تھا تو صرف پانی پت کا جہاں کے واقعات سن رکھے تھے۔ اس لئے دل میں بار بار تقاضہ ہوا کہ طلب علم کے لئے پانی پت کا سفر کیا جائے لیکن کہاں میں اور کہاں پانی پت ۔ ہتھورا کے جنگل سے پانی پت پہونچ جانا کوئی آسان بات نہ تھی پھر ایسی غربت اور بے سروسامانی کے عالم میں کہ نہ کھانے کاٹھکانہ نہ اوڑھنے بچھانے کا، کرایہ کیلئے ایک کوڑی پاس نہ تھی۔ اس لئے یہ ارادہ بھی بس خواب وخیال ہی تک محدود رہا لیکن دماغ میں یہ بات مسلط ہوچکی تھی کہ کسی نہ کسی طرح مجھے پانی پت جانا ہے اس وقت میری عمر ۱۲/ ۱۳برس کی ہوگی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ گھر کی پلی ہوئی بکری فروخت ہوئی چاندی کے ۱۳ یا ۱۴ روپئے کی فروخت ہوئی تھی بکس وغیرہ تو تھا نہیں میری والدہ نے وہ روپئے ایک مٹی کے بھڑیا میں رکھ دیئے وہ روپئے میں نے دیکھ لئے جمعہ کا دن تھا سب لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے چھنیرا گئے ہوئے تھے میں گھوم پھر کر گھر واپس آیا اور خاموشی سے بھڑیا سے روپئے نکالے اور لیکر خفیہ طورپر کسی کو اطلاع کئے بغیر پانی پت کیلئے چل دیا۔ میرے ساتھ بٹو بھائی بھی تھے (آپ کے چچا زاد بھائی وہ بھی اسی ارادہ سے حضرت کے ساتھ ہوگئے تھے) ہم دونوں خفیہ طورپر کھیتوں کھیت پانی پت کے لئے روانہ ہوگئے ۔ باندہ تک پیدل ہی آئے بھوکے پیاسے لیکن اگر کچھ کھاتاتو کرایہ کیلئے پیسے کم پڑجاتے اس لئے کچھ کھایا پیا نہیں رات ہوگئی۔ سخت تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اسی گھٹاٹوپ