واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
سے دریائے کین میں سیلاب آگیا شہر باندہ اوراطراف کے گاؤں متاثر ہوگئے مکانات منہدم، سامان تباہ، جانور مردہ اور آدمی پژمردہ اور دوچار مردہ ہوگئے ۔ بے سروسامانی کی وجہ سے لوگ بھوک سے تباہ ہورہے تھے ، ہر شخص اورہر خاندان اپنی اپنی جانیں اور عزت آبرو بچاتے ہوئے مختلف جگہوں پر قیام کئے ہوئے تھے حضرت علیہ الرحمہ سفر میں تھے وہیں سے ہدایت فرمائی کہ ان بے چاروں کے لئے کچھ کرنا ہے پھر کیا تھا حضرت کے صاحبزادگان اور مدرسہ کے چند مدرسین ترکاریوں کے پیکٹ اورتندوری روٹیاں تیار کرکے ہر طرح کی سواریوں کے ذریعہ ان مصیبت زدہ تک پہونچانا شروع کیا باہر سے آنے والی امداد کی بھی رہبری کی قصبہ اَترّا ضلع باندہ کے ہندوؤں نے اپنی تھوڑی بہت لائی ہوئی امداد انہیں صاحبزادگان کے حوالہ کردیا اور ساتھ ہولئے کہ آپ لوگ اچھا کام کررہے ہیں ، آپ ہی کریں ۔ بلاتفریق ہندو مسلم تک ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر امداد پہونچائی گئی جس کا اثر اچھا رہا۔ اس سے قبل موضع مدن پور ضلع باندہ جواب جمنا آباد ہے،جمنا میں سیلاب آنے کی وجہ سے تباہ ہورہا تھا لوگ گھر سے بے گھر ہورہے تھے لوگوں کا سارا اثاثہ دریا کی نذر ہورہا تھا اور ہوبھی گیا تھا وہاں بھی جو کچھ ہوسکا بتوفیق الہی پہونچانے کی کوشش کی ۔ کئی بار حضرت علیہ الرحمہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو ابن آدم پر رحم نہ کرے وہ آدمی ہی کیا ہے۔ (حقیقت و صداقت:ص:۱۴)شدید بارش سے مدرسہ کے نقصان کا خطرہ اورحضرت کی اضطراری دعاء مولانا محمد زکریا سنبھلی مد ظلہ کا بیان ہے کہ میں وہیں پڑھاتا تھا برسات کا زمانہ تھا