واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اور دینداری کی بنا پر افسوس ہورہا ہے کہ ایسے لوگ جب ہوتے ہیں تو ان کی برکات ظاہر ہوتی ہیں ، ان کی وجہ سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اس بیچارہ کو کسی سے کوئی مطلب نہ تھا، نماز باجماعت کا پابند تھا، اسباق میں حاضری کا پابند تھا، کبھی کسی قسم کی کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی، بالکل قدیم زمانہ کے طالب علموں جیسا تھا، اگر تم لوگ ایسا بننا چاہو کیا نہیں بن سکتے؟ تم لوگ بھی ایسے بنو، اورایسے ہی رہو، میرے دل پر کیا گذررہی ہے اس کے والدین اسکو کیا جانیں ، دعاء کرو اللہ تعالی ان کے والدین کو صبر جمیل نصیب فرمائے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کو شہادت کا درجہ نصیب ہوگا، ایک تو طالب علم تھا ، حالت سفر میں تھا، اللہ کے راستے میں تھا، چھت سے گر کر مرا ہے، ضرور شہید ہوگا، حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو دیوار کے نیچے دب کر مرجائے وہ شہید ہوتا ہے سب لوگ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کے لئے ایصال ثواب کرو، اوراس کے لئے دعاء کرو، پھر دوسرے روز ایک نماز کے بعد حضرت نے اس کے درجات کی بلندی کے لئے دعاء فرمائی اور اعلان فرمایا کہ اس پراگر کسی کا قرض ہوتو مجھ سے آکر لے لے۔ آج دوسرا روز ہے لیکن حضرت اقدس بہت غمزدہ ہیں آواز بھی پورے طور سے نہیں نکل رہی، اور اب بیمار پڑگئے ہیں اللہ تعالی رحم فرمائے۔ (مجالس صدیق ص:۱۷۴)دورانِ علالت بجائے راحت کے مزید مجاہدہ حضرت والا علیہ الرحمہ کو جبکہ بہت سے امراض لاحق ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے سفر موقوف کررکھا تھاحضرت والا سفر کی تاریخ لکھنؤ جلسے کی دے چکے تھے وقت پر اتفاق سے گاڑی لینے آگئی حالت یہ تھی کہ خود گاؤں والوں نے کہا کہ حضرت اس حال میں سفر نہ فرمائیے ہم جاکر معذرت بتلادیں گے۔ لیکن حضرت نے فرمایا کہ ایک بات طے ہوچکی ہے میں وعدہ کرچکا ہوں وہاں لوگ منتظر ہوں گے اس سے قبل کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ نہیں