واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
محترم نے اٹھایا وہ میرا ہی تھا اور جلدی میں جس تیل کو اٹھاکر استاذ محترم نے لگانا شروع کیا حضرت علیہ الرحمہ نے زور دے کر فرمایا کہ جناب کس کا تیل ہے ، بغیر اجازت کے لگارہے ہیں ، تو استاذ محترم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ انہیں کا تیل ہے پھر اس پر حضرت نے فرمایا کہ تیل تو ان کا ہے مگر ان سے آپ نے اجازت لی، اس پر میرے استاذ محترم نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ بیٹے تم اجازت دے رہے ہو میں نے بلا تکلف عرض کیا جی ہاں اس پر حضرت نے فرمایا کہ اب استعمال کرنے کے بعد اجازت لے رہے ہیں ، یہ ہے اللہ کے ولیوں کا طریقہ کہ ہر وقت پر اللہ اوراسکے رسول کی سنتوں کو کبھی فراموش نہیں کیا کہ ادنی سے ادنی چیز بھی بغیر اجازت کے پسند نہیں فرماتے تھے۔ بزرگان دین ہمارے لئے نمونہ تھے ان کی نقل ہمارے لئے راہ نجات ہے۔ (اسلامی فکر۔ صدیق نمبر)ایک مہمان کے نخرے اور حضرت کی تنبیہ مفتی محمد زید صاحب ناقل ہیں کہ ممبئی سے ایک مہمان حضرت کی خدمت میں آئے معمر تھے، ڈاڑھی کے بال کسی قدر سفید ہوچلے تھے، آکر حضرت سے کافی دیر تک گفتگو کی حضرت مروت میں ان سے باتیں فرماتے رہے، اس کے بعد یہ مہمان صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت آپ ممبئی تشریف لائیے گا، اپنے یہاں بلانے پر کافی اصرار کیا، ان کے اصرار کی بناپر حضرت نے فرمادیا کہ جب ممبئی آنا ہوگا تو آپ کے یہاں آجاؤں گا ، ان صاحب نے کہا کہ حضرت آپ مجھ کوپہلے سے اطلاع کردیں کہ میں فلاں تاریخ کو آرہا ہوں میرا پتہ نوٹ کرلیں ، میں آپ کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوں جب آپ ممبئی تشریف لائیں مجھ کو فون کردیں ، کہ میں آگیا ہوں میں آپ سے ملاقات کرلوں گا، حضرت کو ان کے اس طرز گفتگو سے ناگواری ہوئی لیکن کچھ فرمایا نہیں یہ صاحب حضرت کے شاگرد بھی