واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
حضرت فرمانے لگے کہ صبح سبق پڑھانا ہے، کیا بغیر مطالعہ کے سبق پڑھادوں یہ تو خیانت ہوگی یہ تو خیانت ہوگی۔ پھر دوسرے سال بھی ایک مرتبہ طبیعت کافی خراب ہوگئی، تھوڑی تھوڑی دیر سے بے ہوشی کی سی کیفیت ہوجاتی تھی، ایسی حالت میں بھی اصرار ہے کہ کتابیں لاؤسبق پڑھاؤں گا، ہم طلباء نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضرت ویسے تو آپ کبھی ناغہ نہیں فرماتے حتی کہ جمعہ کے دن بھی آپ اپنے اسباق پڑھاتے ہیں ، آج ہم طلباء کی گذارش ہے کہ اسباق نہ پڑھائیں کہنے لگے کہ نہیں ، سبق پڑھاؤں گا، چند اساتذہ کرام سے کہلوایا کہ چھٹی کرالیں وہ حضرات گئے طلباء کی خواہش عرض کی ناکام و نامراد واپس آئے چار ناچار کتابیں لیکر حضرت ؒ کی خدمت میں پہنچ گئے، حضرت لیٹے تھے، جب طلباء بیٹھ گئے زارو قطار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے جیسے ایک بچہ روتا ہے اور کہنے لگے بھائی میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ پڑھتے پڑھتے پڑھاتے پڑھاتے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی میں کیسے کسی کی ریس کرسکتا ہوں ۔ آپ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں علم حاصل کرنے کیلئے آئے ہیں میرے پاس امانت ہیں ، اگر اس وقت میرا سفر ہوجائے (موت) تو امانت میں خیانت کرکے خدا کو کیا منہ دکھاؤں گاکافی دیر تک روتے رہے پِھر کہنے لگے اللہ مجھ سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ آپ لوگوں کے لئے کیا اور کیسے کھانے کا نظم کیا ہے اور کیسی رہائش مہیا کی ہے ہاں تعلیم و تربیت میں مجھ سے کوتاہی ہوگی تو ضرور ہی اللہ کے یہاں باز پرس ہوگی اس حالت میں لیٹے لیٹے چھ سات کتابوں کا سبق پڑھایا۔ اللہ اکبر کیا استحضار کا عالم کیا عجیب شان تھی حضرت کی۔اسباق کے ناغہ سے بچنے کیلئے زحمتیں اٹھانا حضرت مولانا علیہ الرحمہ کے یہاں کثرت اسفار کے باوجود درس کی پابندی کا