واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
راقم الحروف نے ایک مرتبہ حضرت علیہ الرحمہ سے مشورہ لیا کہ احقر ایک مدرسہ میں تدریس و افتاء کی خدمت انجام دیتا ہے نیز ایک مسجد میں امامت اور درس تفسیر کا معمول ہے ۔ مقامی طورپر تبلیغی حلقوں میں شرکت رہتی ہے لیکن باضابطہ تبلیغ میں نکلنے کیلئے موقع نہیں ملتا تبلیغی احباب اصرار کرتے ہیں کہ مہینہ میں تین دن لگا لیا کروں تو کیا میں ہر ماہ مدرسہ سے تین یوم کی چھٹی لیکر اس کام میں شریک ہوں یا کیا کروں جیسا حضرت کا حکم ہوگاویسا ہی اس پر احقر عمل کرے گا۔ حضرت نے احقر کے تحریری استفسار کے جواب میں تحریر فرمایا کہ مرکز دہلی اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں اوروہاں سے جوجواب آئے اسکے مطابق عمل کریں اورلکھاکہ مجھے معلوم ہے کہ مرکز کے اکابر اس سے منع کرتے ہیں خود مرکز میں مدرسہ ہے اور پڑھنے والے طلباء مدرسین وہاں کے تبلیغی پروگرام میں باضابطہ شریک نہیں ہوتے مہینہ کے تین دن بھی نہیں لگاتے البتہ صرف جمعرات کو شام کے وقت جماعت میں جاکر جمعہ کو واپس آجاتے ہیں اوریہ بھی کوئی ضروری نہیں اختیاری ہے۔ جیسا کہ آپ نے ہمارے یہاں دیکھا کہ یہاں بھی طلباء کا یہی معمول ہے۔ حضرت نے فرمایا سب اسی چھ نمبر کے کام میں لگے رہیں گے تو یہ باقی دین کے شعبے کون دیکھے گا لوگ بہت غلط کرنے لگے ہیں در اصل یہ لوگ اپنی منمانی کرتے ہیں اکابر کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔عصری اعلیٰ تعلیم اور خدمتِ خلق حضرت علیہ الرحمہ جیسے دینی تعلیم اور دینی اداروں کو اہمیت دیتے تھے، اسی طرح عصری تعلیم اوراسکے اداروں کی قدرو قیمت ان کے نزدیک کم نہ تھی اورنہ یہ کہ وہ ان کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوں ۔ لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اس میں خلط مبحث کا شکار ہوں اور دونوں کو ہم