واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تحفظ ختم نبوت کی فکر قادیانی فتنہ کی طرف سے حضرات اکابر رحمہم اللہ کی طرح حضرت والا کی بے چینی اورفکر مندی بڑھی ہوئی تھی اوراس فتنہ کی زہر ناکی کا جوآج کل مسلمانوں کے سروں پر منڈلارہا ہے پورا پورا احساس تھا، اس سلسلہ میں حضرت مختلف اشخاص کو متوجہ کرتے رہتے خود لگے رہتے اوراس فتنہ کے تعاقب میں کام کرنے والوں کی سرپرستی و ہمت افزائی فرماتے۔ ضلع فتح پور میں سیمور قصبہ میں جب قادیانی قدم گھس آئے تو حضرت نے فتح پور کے نوجوان فاضل دیوبند مولانا محمد عمر کو اس طرف متوجہ کیا جنہوں نے باقاعدہ رد قادیانیت کی ٹریننگ حاصل کرکے حضرت کی سرپرستی میں ایک مجلس قائم کی، جو سیمور، بہوا، غازی پور وغیرہ علاقہ میں قادیانی سرگرمیوں کا خاتمہ کرتی رہی حضرت نے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند سے اس سلسلہ میں رابطہ وخط و کتابت کا سلسلہ رکھا مجلس کے ناظم عمومی حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند سے مراسلت جاری رہتی اوردرمیان درمیان افراد و مبلغین کرام کے ذریعہ تبادلۂ خیالات ومشورے ہوتے۔ مولانا شاہ عالم مبلغ تحفظ ختم نبوت دیوبند لکھتے ہیں ایک مرتبہ دن میں تقریبا ۲بجے راقم سطور باندہ پہنچا ملاقاتیوں کی ایک بھیڑ جمع تھی اسی حال میں بندہ بھی مصافحہ کے لئے آگے بڑھا اور جوں ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام لیا حضرت پوری طرح متوجہ ہوگئے اوراپنے قریب بٹھالیا مشغولیت اورملاقاتیوں کی بھیڑ دیکھ کر بندہ نے جلدی جلدی روداد سفر سنائی اور واپسی کی اجازت چاہی، حضرت نے فرمایا ٹھہرئے اتنے میں چائے آگئی جو حضرت نے مجھ ناچیز کے لئے ہی منگائی تھی چائے سے فراغت کے بعد واپسی کی اجازت چاہی تومدرسہ کے ایک استاذ کو بلاکر حضرت نے فرمایا بھائی جو کچھ کھانا حاضر ہو فوری طورپر لاؤ اور بندہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: