واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
چماروں کا خیال اور ان کے ساتھ حسن سلوک جامعہ عربیہ ہتھورا کے مسجد کے مغربی جانب چمار آباد تھے جب مسجد کی توسیع کی ضرورت ہوئی تو مغربی جانب کے علاوہ کوئی گنجائش نہ تھی مگر توسیع کے لئے ایک چمار کا مکان حائل تھا اور توسیع مسجد کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا ۔ حضر ت نے فرمایا مسجد ایسے ہی رہنے دو کبھی اوپر کی منزل بنادی جائے گی اس سے مکان لینا اچھا نہیں ، بیچارہ کہا ں رہے گا۔ جب اسکو معلوم ہوا کہ حضرت کی منشاء مسجد بڑھانے کی ہے تو وہ اپنا مکان بعوض دینے پر تیار ہوگیا کیونکہ پہلے ہی پڑوسیوں کے سلوک سے اپنے مکان سے بیزار تھا، بات طے ہوگئی حضرت نے کہا تم کہاں رہوگے، روپیہ لیکر ختم کردوگے اسلئے روپیہ تو لے ہی لو ہم تم کو تمہارے مکان کے بدلے زمین دیتے ہیں جلد ی سے اپنا مکان بنالو جب دوسرے چماروں کو پتہ چلا تواپنے اپنے مکانوں کے بیچنے کا ارادہ کیا آخر کار ہر ایک خوشی خوشی اپنا مکان مدرسہ کے حوالہ کرگیا حضرت علیہ الرحمہ نے ہرایک کو معاوضہ دیا اورزمین دیں آج جامعہ کی مسجد کا مغربی حصہ انہیں کی زمین میں بنا ہوا ہے، حضرت کا یہ احسان یہ چمار رہتی دنیا تک نہیں بھول سکتے ۔ ؎ شنیدم کے مردان راہ خدا دل دشمناں ہم نہ کردند تنگڈرائیور کا خیال اور اہل تعلق کی تربیت کا انداز ایک صاحب جناب منور خاں صاحب تھے اصل وطن تو میرٹھ ضلع تھا لیکن بجلی کے محکمہ میں افسر اعلی ہوکر باندہ پہونچے تھے، انگریزی تعلیم یافتہ تھے لیکن طبعاً بہت ہی شریف وہ بھی اور ان کے بچے بھی باندہ ضلع میں آنے والا ہر افسر حضرت کی محبت و اعتقاد کا