واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
حضرت خود کہنے لگے کہ دس پندرہ سال قبل ہر گھر سے اس سے کہیں زیادہ گالیاں ملتی تھیں لیکن میں نے اس طرف نظر اٹھاکر بھی نہ دیکھا اور نہ ہی کوئی جواب دیا(یہ بطور تربیت کے حضرت نے فرمایا)مخالفین کا احترام اوران کے ساتھ خاطر تواضع ایک بار میاں محبوب (پیر اہل بدعت) کڑے مانی پور کے سجادہ نشین تشریف لائے تو حضرت ان کے سامنے مریدوں کی طرح بیٹھے اور پیر دبانا شروع کردیا ہم سب لوگ (مدرسین و طلباء) دیکھ دیکھ کر ایک دوسرے کواشارہ کررہے تھے کہ آج یہ کیا ہورہا ہے۔ ایک مرتبہ مولانا احسان علی کروی کے رہنے والے جنکو ایک طبقہ طوطی ہندکہتا تھا اپنے مریدوں کے یہاں چھنیرا بستی جاتے وقت مدرسہ میں رُکے، طلباء نے ان سے کچھ سوالات بھی کئے جوابات سے ان کی جہالت پوری طریقہ سے واضح بھی ہوگئی، مگر حضرت نے ان کی پوری مہمان نوازی فرمائی اور فرمانے لگے یہ ہمارے پڑوسیوں کے پیر ہیں ہم پر ان پڑوسیوں کا حق ہے ہمارا کیا گیا، کسی طرح لوگ ہم سے قریب ہوں ۔ (حقیقت وصداقت)سادہ الفاظ کی اثر آفرینی اورسحر البیانی مولانا احمد نصر بنارسی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بہت ہی پریشان تھا فکر کی وجہ سے عجیب سا حال ہوگیاتھا اتفاق سے حضرت والا نوراللہ مرقدہ بنارس آئے، خلوت میں میں نے رو کر اپنی وہ بات بتائی، فوراً سینے سے لگالیا فرمایا گھبراؤ نہیں ، انشا ء اللہ ابھی بہت کام کروگے، زندہ رہو گے اور ایمان پر خاتمہ ہوگا انشاء اللہ ثم انشاء اللہ اطمینان رکھو، بس اسقدر سکون نصیب ہوا کہ اسکی لذت آج بھی