واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
جلد بنوانے کے لئے گئے اور یہ بھی تاکید کردی کہ خدا کے واسطے آپ اس میں اپنی طرف سے کچھ اصلاح نہ فرمائیے گا وہ کہنے لگے بہت اچھا میں تو خیر خواہی کے پیش نظر کرتا ہوں ، ورنہ لوگ تو پیسہ لے کر اصلاح کرتے ہیں ، میری کیا غرض پڑی ہے آپ منع کرتے ہیں ، بہت اچھا نہیں کروں گا، انہوں نے جلد بنادی جب لینے گئے تو قرآن پاک دیا اور کہا کہ آپ نے چونکہ منع کیا تھا اس لئے میں نے اصلاح نہیں کی ہے لیکن ایک ایسی فحش غلطی تھی مجھ سے برداشت نہیں ہوئی اس لئے میں نے وہاں تو اصلاح بہت ضروری سمجھی اس کے علاوہ کچھ اصلاح نہیں کی، اس میں ایک مقام پر لکھا ہے خر موسی۔ (خر کے معنی گدھے کے ہیں ) فرمایا خر(یعنی گدھا) توعیسی علیہ السلام کا تھا، موسیٰ علیہ السلام کے پاس گدھا کہاں تھا، لہذا ’’خر عیسی ‘‘ہونا چاہئے۔ نہ کہ ’’خر موسی‘‘ اس لئے وہاں پر تو میں نے اصلاح کردی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا، آج کل قابلیت اسی انداز کی ہوتی ہے اللہ جہالت سے بچائے۔ایک لطیفہ حضرت کے پاس درس میں ایک طالب علم عبارت پڑھ رہا تھا، کتاب میں عبارت آئی’’مسالک‘‘ (بمعنی مذاہب) ایک طالب علم نے اس کو ٹوکا اور کہا ’’مَسّاً لک‘‘ حضرت مسکرائے اورفرمایا ان کو دیکھو، پھر فرمایا ایک صاحب تقریر کررہے تھے اور بڑے زور و شورسے بیان کررہے تھے، کہ قبر میں آکر جب یاجوج ماجوج سوالات کریں گے بجائے منکر نکیر کے یاجوج ماجوج کہہ رہے تھے، دوسرے صاحب زور سے کھنکارے اورکہتے ہیں کہ یاجو ماجوج نہیں ہاروت ماروت۔ (مجالس صدیق)تمت بالخیر