واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
مشورہ کیا اوراسکے بعد استعفیٰ دیدیا لیکن مولانا وحید الزماں جیسے مخلص فعال کا وہاں رہنا ضروری ہے ان کی موجودگی میں دارلعلوم کو زیادہ تر قی ہوئی ہے اس لئے ان کو میری یہ بات پہونچادینا کہ صدیق نے سلام کہا ہے اور کہا ہے کہ وہ معاون مہتمم کے عہدہ سے استعفیٰ نہ دیں ۔ممبر شوریٰ کی حیثیت سے کرایہ لینے سے انکار بعض ممبر ان شوریٰ کے متعلق فرمایا کہ اہل شوری کا بھی عجیب حال ہے سفر کسی درجہ میں کیا ہو لیکن کرایہ لیں گے فرسٹ کلاس کا، رفیق سفر کاکرایہ الگ، سفر خرچ الگ، چائے پان تک کے پیسے وصول کرتے ہیں ، کتنی شرم کی بات ہے، دارالعلوم دیوبند میں جب شوریٰ ہوئی تھی میں بھی گیا تھامیرے پاس ملازم آیا اور کاغذ دیا کہ اپنا اور اپنے خادم رفیق سفر کا خرچ لکھ دیجئے میں نے کہا دارالعلوم ہمارا ادارہ ہے ہمارے اکابر نے اس کو قائم کیا ہے ، دینی مرکز ہے کیا ہمارے اوپر اس کا اتنا بھی حق نہیں کہ اپنے کرایہ سے سال میں ایک دوبار اس کے کام آسکیں ، ارے اور کچھ نہیں کرتے، چندہ نہیں دیتے کم از کم اتنا ہی کرلیں کہ خود حاضر ہوجایا کریں ، ادارہ کے ہم پر کتنے احسانات ہیں ، مجبوری ہو، تنگی ہو، گنجائش نہ ہو تو دوسری بات ہے۔ میں ناجائز تو نہیں کہتا ہر شخص کے حالات ہوتے ہیں لیکن الحمدﷲ میں جہاں کہیں شوریٰ میں جاتا ہوں ، فتح پور، گونڈہ سب جگہ اپنے ہی کرایہ سے جاتا ہوں دارالعلوم دیوبند بھی اپنے کرایہ سے گیا ، وہ ملازم میرے پاس بار بار کاغذلے کر آیا میں نے معذرت کردی اورکہہ دیا کہ تم کو معلوم ہے کہ میں کرایہ نہیں لیا کرتا پھر کیوں میرے پاس آتے ہو، پھر نہیں آیا۔ (مجالس صدیق ص:۹۳)