واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
نماز کا انہماک و کیفیت حضرت نماز بڑے اہتمام سے ادا فرماتے، ایک ایک رکن باطمینان کامل ادا ہوتا تھا، کہیں کسی مرحلہ میں عجلت نہیں دکھائی دیتی تھی اوراطمینان کا یہ اندازہ ہوتا تھا کہ دیکھنے والا حضرت کے انہماک و لطف کو محسوس کرسکتا تھا، نیت باندھنے کے بعد حضرت کا قلب اورتوجہ کس درجہ ماسوی اللہ سے غافل و دور ہوجاتا تھا، ایک واقعہ سے اندازہ لگائیے، اس واقعہ کو مولوی انیس صاحب کے بیان کے مطابق پوری تفصیل سے نقل کیا جارہا ہے اس لئے کہ اس میں حضرت کی ذات کی نسبت سے اوربھی شواہد موجود ہیں : ۷۲ء یا ۷۳ء کا قصہ ہے کہ ایک نابینا طالب علم جو سیتا پور کا رہنے والا تھا جن کا نام یاد نہیں ہے وہ مغرب و عشاء کے درمیان پہلی منزل کی چھت سے نیچے گرپڑا، اس وقت تک مدرسہ کی چھتوں پر چہاردیواری نہیں تھی، اس طالب علم کا پیر بیچ ران سے ٹوٹ گیا اور ہڈی ٹوٹ کر گوشت میں ایک دوسری طرف گھس گئی اس وقت مدرسہ میں کوئی گاڑی وغیرہ نہ تھی اوردیر ہونے کی وجہ سے آخری بس نومیل سے جاچکی تھی، حضرت نے فرمایا عشاء تک دیکھ لیا جائے شاید اللہ تعالی کوئی سواری بھیج دے۔ بظاہر اس وقت سواری کے آنے کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ اس وقت حضرت کے پاس لوگوں کی اتنی آمدورفت نہیں تھی، خال خال کوئی آجاتا تھا، حضرت نے فرمایا کہ بعد عشاء کچھ نہیں ملے گا تو بیل گاڑی تو ہے ہی وہ اپنی مستقل سواری ہے ، چنانچہ گاؤں سے اس کا نظم کرلیاگیا یہاں مدرسہ میں تعلیم کی وجہ سے نماز عشاء بہت دیر سے ہوتی رہی ہے جیسا کہ آج بھی دستور ہے، جس وقت یہ واقعہ پیش آیا گرمی کا زمانہ تھا، ساڑھے نو ، پونے دس بجے نماز ہوتی تھی اور نماز سے فارغ ہوکر مذاکرہ وغیرہ کے بعد مسجد سے ساڑھے دس بجے نکلنا ہوتا تھا۔ بہر حال مسجد سے نکلنے کے بعد بیل گاڑی تیار کی جارہی تھی اس پر بستر وغیرہ لگایا