واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کی بات طے ہوگئی، چونکہ وعدہ ہوگیا تھا حضرت وہاں تشریف لے گئے اورتنہا ہی گئے، البتہ بعد میں چھنیرا سے حضرت کے ایک عزیز کچھ لوگوں کے ساتھ پہونچ گئے اورکہا کہ : لالہ میں تمہاری وجہ سے آیا ہوں کہ تم ایسی جگہ بالکل اکیلے نہ رہو۔ (تذکرۃ الصدیق)مناظرہ سعدی پور کی دلچسپ داستان استاذی مفتی عبیداللہ صاحب الاسعدی حضرت اقدس مفتی محمود صاحب ؒ کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں کہ غوثی پور مدنپور، سعدی پوریہ تینوں گاؤں ایک دوسرے سے قریب دریائے جمنا کے عین کنارے واقع ہیں ، سڑک سے کچھ ہٹ کر راستہ چلا گھاٹ (واقع بجانب جنوب۔ دریائے جمنا) سے جاتا ہے دریاکی دوسری جانب للولی کا مشہور قصبہ ہے۔ ، ان بستیوں میں حضرت کے خاندان کی قریبی قرابت رہی ہے اور ہے، مگر عقیدہ کے اعتبار سے یہ بستی اوراس کے آس پاس کی چند بستیاں بڑی سخت تھیں اور ہیں ، اور مدنپور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس وجہ سے کہ وہاں ایک قدیم مزار بھی ہے اور ان حضرات کا ایک بڑا ادارہ بھی ہے، حضرت نے سب سے پہلی محراب مدنپور میں ہی سنائی اور قرابت کی وجہ سے وہاں کے لوگ آج بھی کچھ نہ کچھ نرمی و تعلق رکھتے ہیں ۔ الحمدﷲ کہ اب مدنپور نہ سہی تو اطراف کی بستیاں کافی نرم ہوچکی ہیں ، اور مدنپور سے متصل چلاَّ میں بھی ایک مکتب قائم ہوچکا ہے، بہر حال ۔ سعدی پور میں ، اگرچہ عملاً مناظرہ کی نوبت نہیں آسکی، لیکن پوری فضا بنی، اس کی روئیداد اتفاق سے حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی زبانی ان کے ملفوظات میں آئی ہے اور دوسرے مواقع میں بھی بعض حضرات نے اس کو نقل و ذکر کیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا: مولانا صدیق احمد صاحب نے ایک دفعہ اطلاع کی کہ یہاں قریب کے گاؤں